خاموش قاتل سے ہوشیار!
https://urdu.sahartv.ir/news/society_culture-i374009-خاموش_قاتل_سے_ہوشیار!
کورونا وائرس کی رفتار نے سائنسدانوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے اور یہی سبب ہے کہ آج تک اس کا جواب دینے میں ناتواں ہیں۔
(last modified 2026-01-16T11:59:24+00:00 )
Oct ۱۰, ۲۰۲۰ ۰۵:۵۴ Asia/Tehran
  • خاموش قاتل سے ہوشیار!

کورونا وائرس کی رفتار نے سائنسدانوں کو حیران و پریشان کر دیا ہے اور یہی سبب ہے کہ آج تک اس کا جواب دینے میں ناتواں ہیں۔

ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، مگر وہ اسے آگے صحت مند افراد میں منتقل کردیتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ والے ہر 10 میں سے 8 مریضوں میں اس بیماری کی علامات ٹیسٹ کے وقت ظاہر نہیں ہوتیں۔

برطانیہ کی لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 86 فیصد مریضوں میں کھانسی، بخار، سونگھنے یا چکھنے کی حس جیسی علامات سامنے نہیں آئیں، جبکہ 77 فیصد مریض تو ایسے تھے جن میں کسی بھی قسم کی علامات نظر نہیں آئیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کچھ افراد میں کووڈ 19 کی علامات ٹیسٹ سے کچھ دن قبل یا بعد میں نظر آتی ہیں مگر اعداد وشمار سے عندیہ ملتا ہے کہ زیادہ بڑی تعداد ایسے اافراد کی ہوتی ہے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خاموشی سے اس وائرس کو آگے منتقل کرتے ہیں اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت باہر ایسے افراد کی بہت زیادہ تعداد ہوسکتی ہے جو اس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں اور خود کو الگ تھلگ نہیں کرتے، کیونکہ انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔

تحقیق میں کہا گیا کہ وائرس کو خاموشی سے پھیلنے سے روکنے کے لیے اور مستقبل میں اس کی مزید لہروں کی روک تھام کے لیے ٹیسٹ پروگرامز میں لوگوں کے زیادہ بڑے گروپس کی ٹیسٹنگ معمول بنانا چاہیے اور ہر ایک کو اس کا حصہ بنایا جائے۔

اس تحقیق میں مریضوں میں جینیاتی مواد کی جانچ پڑتال کی گئی اور محققین کی جانب سے وائرس کی منتقلی کی چین یا زندہ وائرسز کی نشوونما کو نہیں دیکھا گیا۔

مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ نتائج سے ٹھوس عندیہ ملتا ہے کہ بغیر علامات والے مریض غیر دانستہ طور پر وائرس کو پھیلادیتے ہیں۔