کیا فیڈنگ بوتلوں کے ان نقصانات سے آّپ آگاہ ہیں؟
https://urdu.sahartv.ir/news/society_culture-i374591-کیا_فیڈنگ_بوتلوں_کے_ان_نقصانات_سے_آّپ_آگاہ_ہیں
ایک نئی طبی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۱, ۲۰۲۰ ۰۲:۴۴ Asia/Tehran
  • کیا فیڈنگ بوتلوں کے ان نقصانات سے آّپ آگاہ ہیں؟

ایک نئی طبی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں۔

جریدے نیچر فوڈ میں شائع تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی اس تحقیق کے لیے محققین نے بچوں کی 10 اقسام کی فیڈنگ بوتلیں خریدیں اور تجزیہ کیا کہ اس کی صفائی اور دودھ تیار کرنے کے مراحل میں کتنی مقدار میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کا اخراج ہوتا ہے۔

تحقیق میں شامل تمام بوتلیں مکمل طور پر یا جزوی طور پر پولی پروپلین سے تیار ہوئی تھیں جو دنیا میں خوراک کی تیاری اور اسٹوریج کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی ایک عام ترین قسم ہے۔

نتائج میں دریافت کیا گیا کہ صفائی کے عمل کے دوران فی لیٹر 13 لاکھ سے ایک کروڑ 62 لاکھ پلاسٹک کے انتہائی ننھے ذرات ریلیز ہوتے ہیں۔

جب ان پلاسٹک کی بوتلوں کو گرم پانی سے صاف اور جراثیم سے پاک کیا گیا تو اس عمل کے دوران بھی مائیکرو پلاسٹک کے ننھے ذرات کی نمایاں تعداد کو دریافت کیا گیا۔

یہ تعداد لاکھ سے 5 کروڑ 50 لاکھ تک تھی اور اس عمل کو 21 دن تک دہرایا گیا تو محققین نے دریافت کیا کہ اس پورے عرصے میں ان ذرات کے جھڑنے کا عمل جاری رہا۔

انہوں نے نتیجہ نکالا کہ افریقہ اور ایشیا میں بچوں کے جسموں میں پلاسٹک جانے کا امکان کم ہوتا ہے جبکہ شمالی امریکا، یورپ اور اوشیانا میں زیادہ۔

محققین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فیڈنگ بوتلوں سے پلاسٹک کے ننھے ذرات کے اخراج کو کم از کم رکھنے کے لیے سب سے پہلے تو فارمولا ملک کو پلاسٹک کے ڈبوں میں دوبارہ گرم کرنے اور مائیکرو ویو سے گریز کریں۔

انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ فارمولا ملک کو نان پلاسٹک ڈبوں میں تیار کریں جن میں پانی کو کم از کم 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کیا گیا ہو۔