کورونا کو شکست دینا، اس بیماری کا خاتمہ نہیں: تحقیق
ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کوویڈ- 19 کو شکست دینا اس بیماری کا اختتام نہیں ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی، جس کے مطابق اس بیماری کو شکست دینے والے افراد کو کئی ماہ بعد بھی طبی اور مالی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
مشی گن یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم کی اس تحقیق میں کوویڈ- 19 کے ایسے 488 مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جو مشی گن کے ہسپتالوں میں زیرعلاج رہنے کے بعد ڈسچارج ہوچکے تھے۔
16 مارچ سے یکم جولائی کے دوران ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والے ان افراد کا جائزہ 2 ماہ بعد لیا گیا۔
طبی جریدے جرنل اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع تحقیق کے مطابق ایک تہائی افراد نے طبی مسائل جیسے کھانسی کے ساتھ نئے یا پہلے سے بدتر علامات اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے مسلسل محرومی کو رپورٹ کیا۔
تقریبا 50 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس بیماری کے باعث 'جذباتی طور پر متاثر' ہوئے جبکہ 28 فیصد نے ذہنی صحت کے مراکز کے لیے رجوع کیا۔
36 فیصد نے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے پر معمولی مالی مشکلاات کو رپورٹ کیا جبکہ 40 فیصد اپنی ملازمتوں سے فارغ یا اتنے کمزور ہوگئے کہ کام پر واپس نہیں جاسکے۔
محققین کا کہنا تھا کہ اس بیماری کو شکست دینے والے بیشتر افراد کے لیے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی صلاحیت جسمانی اور جذباتی علامات کے باعث کمزور ہوجاتی ہے جبکہ مالی نقصانات بھی عام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سے تصدیق ہوتی ہے کہ کوویڈ- 19 کا اثر ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔
رواں ہفتے ہی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کوویڈ- 19 کے نصف سے زیادہ صحتیاب مریضوں کو ابتدائی بیماری کے 10 ہفتوں بعد مسلسل یا ہر وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے۔