بڑھتی عمر کے ساتھ ہارٹ اٹیک کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟
طبی محققین نے عمر بڑھنے کے ساتھ انسانوں میں امراض قلب کا خطرہ بڑھنے کے اسباب کا پتہ لگا لیا ہے۔
امریکا کی ساؤتھ فلوریڈا یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم بالخصوص دل مائی ٹو کانڈریا پر انحصار کرتا ہے، یہ خلیات کا وہ حصہ ہوتا ہے جو توانائی بنا کر قلب کے افعال کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
مائی ٹو کانڈریا کے اندر پائے جانے والا ایک پروٹین Sesn2 دل کو تناؤ سے تحفظ دینے میں کردار ادا کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے انسانوں کو امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ اس پروٹین کی سطح گھٹنے لگتی ہے، جس سے دل اور اس کے افعال کمزور ہونے لگتے ہیں۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اس پروٹین کی سطح بہت کم ہونے کے باعث معمر افراد میں ہارٹ اٹیک اور دل کی دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بہت زیادہ بڑھتا ہے۔
اس سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ اس پروٹین کی مقدار کو مستحکم رکھنا دل کو صحت مند رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
عام طور پر امراض قلب کے شکار افراد کے دل کی شریانوں میں stent داخل کیا جاتا ہے تاکہ ان کو کشادہ رکھا جاسکے یا ادویات کی مدد سے خون کو جمنے سے روکا جاتا ہے۔
اگرچہ اس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے مگر ان طریقوں سے دل کو مزید نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین نے توجہ دی کہ یہ پروٹین Sesn2 مائی ٹو کانڈریا کے افعال برقرار رکھنے کے ساتھ پیچیدگیوں کی روک تھام کس طرح کرسکتا ہے۔