-
ویانا مذاکرات میں پیشرفت، (تفصیلی خبر )
May ۰۲, ۲۰۲۱ ۱۰:۱۴ایران کے نائب وزیرخارجہ اور ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ سید عباس عراقچی نے ویانا مذاکرات میں پیشرفت کی خبر دی ہے۔ انھوں نے اسی کے ساتھ کہا ہے کہ ابھی بعض مسائل میں اتفاق رائے حاصل نہیں ہوسکا ہے جن کے حل کے لئے مذاکرات جاری رہیں گے۔
-
ویانا مذاکرات میں پیشرفت، اکثر افراد اور اداروں کے نام پابندیوں کی فہرست سے خارج
May ۰۲, ۲۰۲۱ ۰۷:۰۹ایران کے نائب وزیر خارجہ اور اعلی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ ویانا مذاکرات میں ایران کے اکثر افراد اور اداروں کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالنےپر اتفاق ہوگیا ہے۔
-
ویانا میں ایران اور گروپ چار جمع ایک کے درمیان مذاکرات جاری
Apr ۲۹, ۲۰۲۱ ۱۱:۵۱ویانا میں تین شعبوں ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور اور عملی اقدامات کے شعبوں میں ورکنگ گروپ کے دائرے میں مذاکرات اور تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری ہے۔
-
ایران کے خلاف تمام امریکی پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا
Apr ۲۸, ۲۰۲۱ ۱۳:۲۲ویانا میں ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف تمام امریکی پابندیوں کو ختم کرنا ہو گا۔
-
مذاکرات کو غیر ضروری طول دینے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، عباس عراقچی
Apr ۲۷, ۲۰۲۱ ۲۰:۳۷ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے تہران، ایٹمی مذاکرات کو غیر ضروری طول دینے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔
-
سبهی امریکی پابندیوں کے خاتمے پر زور
Apr ۲۶, ۲۰۲۱ ۲۲:۱۳سحر نیوز رپورٹ
-
پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں: عباس عراقچی
Apr ۲۶, ۲۰۲۱ ۱۴:۱۱ایران کے نائب وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران تمام پابندیوں کی منسوخی کے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے
-
امریکی پابندیوں کس خاتمے پرزور
Apr ۲۱, ۲۰۲۱ ۱۷:۴۵سحر نیوز رپورٹ
-
مذاکرات کو طول دینے اور وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی: ایران
Apr ۲۱, ۲۰۲۱ ۰۶:۰۵ایران کے اعلی مذاکرات کار نے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کو طول دینے اور وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
-
ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ختم
Apr ۲۰, ۲۰۲۱ ۱۴:۳۰ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس ویانا میں ختم ہوگیا ہے اور مذاکرات میں شریک وفود ضروری صلاح و مشورے کے لیے اپنے اپنے ملکوں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔