دوما المیے کے بعد صیہونی حکومت کے بائیکاٹ میں شدت
Aug ۱۵, ۲۰۱۵ ۱۶:۱۶ Asia/Tehran
صیہونی حکومت کے ہاتھوں دوما گاؤں میں بچے کو جلا کر مارنے کی مجرمانہ کاروائی کے بعد غاصب صیہونی حکومت کے بائیکاٹ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
قدس نیٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق غرب اردن کے شمال میں دوما گاؤں پر صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں الدوابشہ خاندان کے ایک شیر خوار بچے اور اس کے والد کی شہادت کے بعد دنیا کے مختلف علاقوں میں صیہونی حکومت کے اقتصادی بائیکاٹ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ تک میں صیہونی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے اور اس بائیکاٹ کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ادھر فرانس کے اخبار لی مون نے کہا ہے کہ دوما گاؤں کی المناک مجرمانہ کاروائی اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ غرب اردن میں نیتن یاہو کے حکم سے ہی یہودی کالونیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے،لی مون نے لکھا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں سب سے زیادہ زور یہودی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے اور ان میں توسیع لانے پر دیا تھا۔ اس اخبار کے مطابق وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے اور چوتھی مرتبہ انہوں نے کابینہ تشکیل دی۔ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے انیس سو چھیانوے کے بعد چوتھی مرتبہ کابنیہ بنائی۔ اخبار لی مون کے مطابق اسرائیل کی کسی بھی کابینہ نے یہودی کالونیوں کے مسئلے پر اتنا زور نہیں دیا کہ جتنا نیتن یاہو کی موجودہ کابینہ دے رہی ہے۔