یورپی ممالک میں تارکین وطن کے خلاف تشدد میں اضافہ
Nov ۱۳, ۲۰۱۵ ۱۳:۴۵ Asia/Tehran
یورپی ممالک میں تارکین وطن کی آمد میں اضافے کے ساتھ ہی ان کے خلاف نسل پرستوں اور قدامت پسند دھڑوں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
جرمن اخبار اشپیگل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سومالیہ سے تعلق رکھنے والی ایک پناہگزین حاملہ خاتون کو شمال مشرقی جرمنی کے شہر باد بلزک میں، حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق آٹھ ماہ کی حاملہ اکیس سالہ خاتون کو نامعلوم افراد نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ ایک سپرمارکیٹ سے خریداری کرکے اپنے کیمپ کی جانب واپس جارہی تھی۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ پناہگزینوں کے کیمپوں اور قیام گاہوں پر حملوں میں قابل ذکر حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اکیس ستمبر تک جرمنی میں پناہگزینوں کے خلاف چار سو سینتس حملے ریکارڈ پر آچکے ہیں جبکہ گزشتہ سال ایسے دو سو حملے پولیس کے علم میں آئے تھے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پناہگزینوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جتنے کہ پولیس کے ریکارڈ پر آچکے ہیں۔
اسی دوران جرمنی کے صدر یوآخیم گوک نے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے اور پناہگزینوں کی مشکل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کی بابت سخت خبر دار کیا ہے۔
مغربی جرمنی کے شہر برگیش گلاد باخ میں تارکین وطن کے کیمپوں کے دورے کے موقعے پر صدر گوک نے یہ بات زور دیکر کہی کہ تارکین وطن کی آمد کے معاملے پر انتہا پسندانہ بیانات سے گریز کیا جانا چاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ جرمنی پناہگزینوں کے معاملے سے عہد برا ہونے کی توانائی نہیں رکھتا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جرمنی کے وزیر خزانہ ولفانگ شوبل نے اپنے بیان میں کہا کہ جرمنی اور یورپ میں پناہگزینوں کے معاملے سے صحیح طریقے سے نہیں نمٹا گیا تو صورتحال برف کے طوفان میں تبدیل ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یورپ مشترکہ کوشش کے ذریعے ہی پناہگزینوں کے بحران پر قابو پاسکتا ہے، جبکہ جرمنی اپنی صوبائی سرحدوں کو بند کرکے بھی اکیلے سے اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ جمہوریہ چیک میں گرفتار درجنوں پناہگزینوں نے اپنی مدت حراست میں توسیع کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ انہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اور کب تک حراست میں رکھا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ یورپی ممالک میں پناہگزینوں کے حوالے سے یکساں پالیسی کافقدان ہے ۔ جرمنی اور سوئیڈن جیسے ممالک ، یورپ کے تمام ملکوں کے لیے پناہ گزینوں کا کوٹہ مقرر کیے جانے پر زور دے رہے ہیں جبکہ پولینڈ، ہنگری اور جمہوریہ چیک جیسے ممالک کوٹہ سسٹم بنانے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ عالمی جنگ کے بعد براعظم یورپ کو پناہگزینوں کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ رواں سال کے دوران صرف جرمنی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
ادھریورپی سینٹرل بینک کی ڈائریکٹر ماریو دریرگی نے خبر دار کیا ہے کہ اگر پناہگزینوں کے بحران پر قابو پانے کے لئے درست منصوبہ بندی نہ کی گئی تو براعظم یورپ کا سماجی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوسکتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ صحیح منصوبہ بندی اور سرماریہ کاری کی جائے تو نہ صرف اس بحران کو حل کیا جاسکتا ہے بلکہ براعظم یورپ اور یورپی یونین کو مقررہ مدت میں اقتصادی لحاظ سے مزید طاقتور بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پناہگزینوں کے معاملے میں حکومتوں کی سرمایہ کاری سے یورپی ملکوں کے بحٹ خسارے میں کس حدتک اضافہ ہوگا تاہم پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے پرائیوٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔