یورپی ملکوں کی سرحدوں کو مکمل کنٹرول کئے جانے پر تاکید
فرانس کے وزیر اعظم نے یورپی یونین کے رکن ملکوں کی سرحدوں کو زیادہ سختی سے کنٹرول کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پریس ٹی وی کے مطابق فرانس کے وزیر اعظم مانوئل والس نے کہا ہے کہ برسلز دہشت گردانہ حملوں کے بعد یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو زیادہ سختی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یورپ میں داخل ہونے کے راستوں پر کنٹرول بڑھانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ فرانس کے وزیر اعظم نے کہا کہ شام میں بہت سے پاسپورٹ چوری ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اور دہشت گرد یورپ میں داخل ہونے کے لئے چوری کے ان پاسپورٹ کو استعمال کر سکتے ہیں، بنابریں کنٹرول بڑھا دینے کی ضرورت ہے۔ مانوئل والس نے اسی طرح ہوائی جہازوں کے ذریعے یورپ کا سفر کرنے والوں کے کوائف بھی سختی کے ساتھ جانچے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ برسلز میں منگل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پورے یورپ میں سیکورٹی کا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک پیرس حملوں میں ملوث تیس سے زائد افراد کا پتہ لگایا جا چکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں سے گیارہ افراد ہلاک اور بارہ گرفتار کئے جا چکے ہیں اور بقیہ افراد کو گرفتار کرنا باقی ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی بقول ان کے شام میں کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیلجیئم اور فرانس میں دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کا ایک مرکز ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپی ملکوں میں دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کا ٹھکانہ شام میں ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ پیرس دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ صلاح عبدالسلام کو چند روز قبل بیلجیئم سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بیلجیئم کے ذرائع ابلاغ نے بدھ کو دعوی کیا ہے کہ برسلز دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ابراہیم اور خالد البکراوی دونوں، عبدالسلام سے رابطے میں تھے۔ دوسری جانب چار فرانسیسی نوجوانوں کو، جو داعش میں شمولیت کے لئے شام جانا چاہتے تھے، تین سال سے پانچ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ فرانسیسی اخبار لی فیگارو آن لائن نے رپورٹ دی ہے کہ فرانس کی ایک عدالت نے بلال تازی اور منصور لی نامی فرانسیسی نوجوانوں کو پانچ پانچ سال قید، فیصل ایت مسعود کو چار سال اور سیہم لیدونی نامی نوجوان کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ فرانس کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ تیرہ نومبر دو ہزار پندرہ کو پیرس میں انجام پانے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد چھے سو فرانسیسی، عراق اور شام میں داعش میں شامل ہوئے ہیں۔