افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i233374-افغانستان_میں_طالبان_کے_ٹھکانوں_پر_امریکی_فضائی_حملے
امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیئے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jun ۲۵, ۲۰۱۶ ۰۸:۴۴ Asia/Tehran
  • افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملے

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیئے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے لئے امریکی صدر سے اختیارات حاصل کرنے کے بعد امریکی فوج نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر پہلی بار فضائی حملے کئے ہیں۔

امریکی وزارت جنگ کے ترجمان پیٹر کوک نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر کئے جانے والے امریکی حملوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے، جنوبی افغانستان میں انجام پائے اور حملوں کے وقت افغانستان کے اس علاقے میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھا۔

اس ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف اس طرح کے حملے مسلسل جاری رہیں گے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر اس قسم کے حملوں کی، ایسی حالت میں اجازت دی ہے کہ اس ملک میں بیرونی افواج کے مشن کی مدت پوری، اور افغانستان میں امن کی فراہمی کی ذمہ داری افغان سیکورٹی فورسز کو سپرد کئے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ پورا ہو رہا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما، اپنے ملک کے فوجی کمانڈروں اور سابق سفارت کاروں کے دباؤ میں آکر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے بارے میں اپنے منصوبے سے اب پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ انھوں نے دو ہزار سترہ میں اقتدار چھوڑنے سے قبل افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد نو ہزار آٹھ سو سے کم کر کے پانچ ہزار پانچ سو تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔