جنوبی کوریا میں صدر کے خلاف مظاہروں میں شدت
جنوبی کوریا میں صدر پارک گیون ہائے کے خلاف عوامی مظاہرے اور استعفے کے مطالبات شدت اختیار کرگئے ہیں۔
خبروں کے مطابق شدید برف باری اور سردی کے باوجود لاکھوں افراد نے مسلسل پانچویں ہفتے بھی دارالحکومت سیئول کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ مظاہرین ایوان صدر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے ایوان صدر سے تقریبا ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہو کے صدر پارک گیون ہائے کے خلاف زبردست نعرے لگائے جس کی آوازیں ایوان میں سنائی دے رہی تھیں۔ مظاہرین پارک گیون ہائے کے استعفے اور انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صدر کے استعفے تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جنوبی کوریا کی صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بعض قریبی ساتھیوں کو ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کی اجازت دے رکھی ہے۔ کہا جا رہا ہے صدر پارک گیون ہائے نے اپنی ایک سہیلی چوی سون سل کو اہم سرکاری دستاویزات تک رسائی کی اجازت دے رکھی ہے حالانکہ وہ کسی بھی سرکاری عہدے پر نہیں ہیں۔ صدر کی سہیلی چوئی سون سل کو دھوکہ دہی ،اختیارات کے ناجائز استعمال اور بعض کمپنیوں سے بھاری رقم بٹورنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔