امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم میں گٹھ جوڑ
نئے امریکی صدر اور صیہونی حکومت کے وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو کے بعد وائٹ ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے خطرے سے متعلق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل جاری رہے گا۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں ایران سمیت مشرق وسطی کے بارے میں قریبی صلاح و مشورے کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
دوسری جانب تل ابیب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کو آئندہ ماہ فروری میں واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اور صیہونی وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فونی بات چیت میں ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے اور فلسطین کی صورت حال کے بارے میں بات چیت ہوئی ہے۔
صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے اتوار کے روز کابینہ کے اجلاس میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کی ایک بار پھر مخالفت کی تھی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ تھا کہ
ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو ختم کرانا اسرائیل کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
اسرائیل اور خطے کے بعض ممالک، ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔
ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کو بدترین معاہدہ قرار دینے والے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دھمکی دی تھی کہ وہ ایٹمی معاہدے کو پھاڑ دیں گے یا کم سے کم اس کے بارے میں دوبارہ مذاکرات کریں گے۔
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے جامع ایٹمی معاہدے کو ایک سال مکمل ہونے پر کہا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے مذاکراتی عمل مکمل ہو چکا ہے اور اس بارے میں از سرنو مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس سے قبل یورپی یونین کے امور خارجہ کی چیئر پرسن فیڈریکا موگرینی نے بھی اپنے ایک بیان میں ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر نظرثانی کے امکان کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے یورپی یونین اور عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنے ان تمام وعدوں کی پاسداری کرے جن کا ذکر ایٹمی معاہدے میں کیا گیا ہے۔