جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد جاری رہے گا، یورپی وزرائے خارجہ
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے لکسمبرگ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ملکوں نے لکسمبرگ اجلاس کے اختتامی بیان میں امریکہ پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کرے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی ایک پریس کانفرنس کے دوران یورپی یونین کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں جامع ایٹمی معاہدے کو بارہ سال کی سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والا جامع ایٹمی معاہدہ، جو بارہ کی سال کی سفارت کاری کا نتیجہ ہے، ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی کے عالمی منصوبے کا کلیدی عنصر اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ اس معاہدے پر کامیاب عملدرآمد اس بات کی ضمانت ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ پرامن مقاصد کے لیے جاری رہے گا۔
یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ملکوں کے نمائندے کی حثیت سے بیان دیتے ہوئے فیڈریکا موگرینی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین، امریکہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بھی جامع ایٹمی معاہدے کے تحت کے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔
فیڈریکا موگرینی نے خبر دار کیا کہ حکومت امریکہ کو جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی سلامتی پر پڑے والے اثرات پر اچھی طرح غور کر لینا چاہیے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے معائنہ کاری کے جامع اور ٹھوس میکنیزم کے تحت تیار کی جانے والی آٹھ رپورٹوں میں ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی تصدیق کی ہے اور یورپی یونین بھی خود کو جامع ایٹمی معاہدے کے تمام حصوں پر عملدرآمد کا پابند سمجھتی ہے۔
ادھر برطانوی وزیر خارجہ بوریس جانسن نے بھی لکسمبرگ میں دیگر یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ لندن سمیت تمام یورپی ممالک ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھیں گے کیونکہ یہ معاہدہ پوری دنیا کے حق میں بہتر ہے۔
ہالینڈ کے وزیر خارجہ برٹ کونڈرس نے بھی جامع ایٹمی معاہدے کو اتنہائی اہم اور تعمیری معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے دستبرداری کا نقصان صرف امریکہ ہی کو نہیں بلکہ یورپ اور پوری عالمی برادری کو پہنچے گا اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن بھی اس بات کو محسوس کرتا ہے۔
لکسمبرگ کے وزیر خارجہ جان ایسلبرن کا کہنا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے یورپ ایران سے قریب ہے بنابرایں اپنی سلامتی کے لیے اسے ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہے اور ہم اس کی پابندی کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کی ذریعے امریکہ کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اورپانچ جمع ایک گروپ کے درمیان جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس امریکی صدر کے پالیسی بیان کے بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے ایران اور جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنی حکومت کی نئی اسٹریٹیجی کا اعلان کیا ہے۔