ہندوستان اور روس کے مابین فضائی دوڑ
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i424545-ہندوستان_اور_روس_کے_مابین_فضائی_دوڑ
ہندوستان کے بعد روس نے بھی اپنا خلائی مشن ’لونا 25‘ چاند پر بھیج دیا جو جلد چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا۔
(last modified 2026-07-30T21:40:56+00:00 )
Aug ۱۱, ۲۰۲۳ ۱۱:۱۳ Asia/Tehran
  • ہندوستان اور روس کے مابین فضائی دوڑ

ہندوستان کے بعد روس نے بھی اپنا خلائی مشن ’لونا 25‘ چاند پر بھیج دیا جو جلد چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا۔

اسپوتنک خبر رساں ایجنسی کے مطابق لونا 25 کو ہندوستان کے ساتھ خلائی دوڑ میں شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد چاند کے قطب جنوبی پر اتر کر نمونے جمع کرنا ہے تاکہ چاند پر پانی کی موجودگی کا سُراغ لگایا جاسکے۔

روسی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بعد لونا 25 قطب جنوبی کے علاقے میں اترنے سے پہلے صحیح جگہ کا انتخاب کرنے میں تین سے سات دن گزارے گا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا جب روسی خلائی مشن چاند کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ قطب جنوبی پر کافی مقدار میں برف موجود ہے جس سے انسان کے زندہ رہنے کی اُمید ملتی ہے۔

روس نے آخری مرتبہ 1976 میں خلائی مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 47 سال کے بعد روس نے ایک بار پھر اپنا مشن چاند پر روانہ کیا ہے۔ آخری مرتبہ سابق سوویت یونین کے دور میں ’لونا-24‘ چاند کی سطح سے 170 گرام مٹی لے کر کامیاب لوٹا تھا۔

روسی خلائی ایجنسی راسکوسموس کے مطابق چار ٹانگوں والے لینڈر کا وزن تقریباً 800 کلوگرام (1,750 پاؤنڈ) ہے اور یہ پانچ دن میں چاند کے مدار میں پہنچ جائے گا۔

اس سے قبل امریکا، چین اور روس چاند پر مختلف مشنز کامیابی سے اتار چکے ہیں مگر قطب جنوبی میں لینڈنگ کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس برف کو پانی میں تبدیل کر کے پینے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ اس سے آکسیجن اور ہائیڈروجن بھی حاصل کی جاسکتی ہے جس سے چاند پر زندہ رہنے سمیت خلائی جہاز کے لیے فیول حاصل کی جا سکے گی۔

توقع ہے کہ ’لونا 25‘ 23 اگست کو چاند کی سطح پر پہنچ جائے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت ہندوستان کا چندریان 3 بھی چاند کے مدار میں موجود ہے جس کو 14 جولائی کو لانچ کیا گیا تھا۔