مصر میں انسداد دہشت گردی کے نئے قانون پر تنقید کا سلسلہ جاری
Aug ۲۱, ۲۰۱۵ ۱۴:۰۸ Asia/Tehran
مصر میں انسداد دہشت گردی کے نئے قانون پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے-
اطلاعات کے مطابق مصر میں بہت سے سیاسی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کی منظوری کا مقصد تشدد پسندوں کے بجائے مخالفین سے مقابلہ کرنا ہے- انسانی حقوق کے عرب نیٹ ورک کے ڈائریکٹر جمال عید نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ قانون، مصر میں آزادی کے فقدان اور ڈکٹیٹرشپ کا غماز ہے اور تمام اعتراضات اور تنقیدوں کے باوجود اس قانون کی غیر متوقع منظوری اچھی علامت نہیں ہے- مصر کی پیپلز موومنٹ پارٹی کے قانونی مشیر طارق نجیدہ نے کہا ہے کہ السیسی حکومت تیزی کے ساتھ پیچھے کی طرف پلٹ رہی ہے اور قوانین کے بارے میں حکومت اور عوام کے درمیان کسی سنجیدہ بات چیت کا وجود نہیں ہے- ادھر مصر کے انقلابی سوشلسٹ نوجوانوں کی تحریک کے سیاسی شعبے کے رکن محمود عزت نے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کا مقصد مصر میں جاری انقلابی تحریک کو سرکوب کرنا قرار دیا ہے- واضح رہے کہ انسانی حقوق کی مصری اور غیرملکی تنظیموں کی طرف سے وسیع پیمانے پر تنقید ہونے کے باوجود مصر میں انسداد دہشت گردی کا نیا قانون صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے رواں ہفتے میں منظور کیا گیا ہے- اس قانون کی منظوری پر مصر کی سیاسی پارٹیوں اور انقلابی نوجوانوں نے وسیع پیمانے پر تنقید اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے-