پر امن ایٹمی توانائی کا حصول ایران کا حق: باراک اوباما
Aug ۰۶, ۲۰۱۵ ۱۰:۵۹ Asia/Tehran
امریکا کے صدر باراک اوباما نے پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کو اسلامی جمہوریہ ایران کا حق قرار دیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے بدھ کے دن امیریکن یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے امریکا کی تاریخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کے زمانے میں بعض لوگ کہتے تھے کہ امریکا کو سوویت یونین کے ساتھ جنگ کرنی چاہئے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے امریکا کے لئے جنگ کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کے خلاف تشہیراتی مہم پر کئی ملین ڈالر خرچ کرنے والے لوگ وہی ہیں جو عراق کے خلاف جنگ کا پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایک عشرے سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک جنگ عراق کے منفی اثرات و نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ باراک اوباما نے کہا کہ جنگ عراق میں امریکا کے ہزاروں فوجی ہلاک اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے تھے اور تقریبا ایک ٹریلین ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔ امریکی صدر نے ایٹمی معاہدے میں ایران کے وعدوں کا ذکر کیا اور ان وعدوں کو مذاکرات میں اپنی حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ امریکا کے بعض اقتصادی حلیفوں کو ایران مخالف پابندیوں کے زمانے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ باراک اوباما نے امریکا میں ایٹمی معاہدے کے خلاف کی جانے والی سیاسی مخالفت کی جانب اشارہ کیا اور کہا چونکہ اس وقت امریکا میں ہر چیز کو جماعتی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے اس لئے ابھی معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین کانگریس نے اس کی مخالفت شروع کر دی تھی- امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد اسرائیل کے سوا جس کسی نے بھی اس معاہدے کے بارے میں اظہار خیال کیا اس نے اس کی حمایت کی۔