تہران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی امریکی کوشش
Aug ۰۹, ۲۰۱۵ ۰۴:۵۰ Asia/Tehran
امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاہدے نے تہران کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری کا بھی موقع فراہم کیا ہے-
پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما نے ہفتے کے روز سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی مسئلہ حل ہونا چاہئے اور ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے سے، تہران واشنگٹن تعلقات میں بہتری کا مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے- باراک اوباما نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان بحران شام سمیت مختلف مسائل میں مذاکرات کی زمین ہموار ہو چکی ہے اگرچہ ایسا فوری طور پر ہونا بعید نظر آتا ہے- امریکی صدر نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا، کانگریس میں ایٹمی معاہدہ منظور نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی آپشن میز پر ہو گا؟، کہا کہ بڑے مسائل کے سلسلے میں ان کے پاس ایک جامع پالیسی موجود ہے اور وہ ناکامی کی پیشگوئی نہیں کرتے- امریکی صدر نے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں امریکی ریپبلکنز بالخصوص امریکی سینیٹ میں اکثریتی گروہ کے لیڈر مک کینل پر، جو ایٹمی سمجھوتے کے سخت خلاف ہیں، شدید تنقید کی- انھوں نے مک کینل اور ان کے دیگر حامیوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی مخالفت کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صیہونی لابی پر ایٹمی معاہدے کو مسترد کرانے کے لئے کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کا الزام بھی عائد کیا-