رہبر انقلاب اسلامی کا امام خمینی رح کی برسی کے موقع پر خطاب
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امام کے انقلابی ہونے اور انقلابی عمل کرنے کی وجہ سے سامراجی طاقتیں آپ سے خوف کھاتی تھیں ۔
آج ایرانی قوم سمیت دنیا بھر میں موجود امام خمینی رح کے افکار ونظریات کی پیروی کرنے والے افراد نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رح کی ستائیسویں برسی نہایت عقیدت و احترام اور پرشکوہ انداز سے منائی۔
تہران میں امام خمینی رح کے مزار پر منقعدہ برسی کی تقریبات میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حضرت امام خمینی رح کے سیاسی افکار و نظریات کا ذکر کرتے ہوئے نیز ان کے صفات کو بیان کرتے ہوئے ان کے سیاسی نظریات کے اہم نکات پر روشنی ڈالی ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینی کی تین بنیادی صفات یعنی ان کے مومن، عابدحقیقی اور انقلابی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ امام خمینی رح حقیقت میں امام انقلاب تھے اور انقلاب وہ لفظ ہے جس میں بے شمار حقائق پوشیدہ ہیں اما خمینی ان تمام خصوصیات کے حامل تھے جو انقلاب کے لفظ اور اصطلاح میں پنہاں اور بیان کئے جاتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق امام خمینی رح سے سامراجی طاقتوں کی دشمنی اور ان سے خوف و ہراس کی سب سے بنیادی وجہ امام خمینی رح کا ایک انقلابی ہونا تھا ۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امام کے انقلابی ہونے اور انقلابی عمل کرنے کی وجہ سے سامراجی طاقتیں آپ سے خوف کھاتی تھیں ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اقتصادی ناکہ بندی ، اقتصادی پابندیاں نیز ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے مختلف سازشیں نیز انسانی حقوق کے کی پامالی کے الزامات کو سامراجی طاقتوں کے مختلف بہانے قرار دیتے ہوئے فرمايا: آج بھی ایران کے اسلامی انقلاب کے دشمن ایران کے انقلابی اور جہادی طریقے سے اپنے امور کو انجام دینے کی وجہ سے خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
امام خمینی رح نےاپنے انقلابی افکار اور انقلابی روش کی وجہ سے ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی زمین ہموار کی اور ایک ایسا نمونہ اور آئیڈيل پیش کیا کہ جس نے نہ صرف ایرانی قوم و ملت کی تقدیر بدل دی بلکہ انقلابی تحریکوں اور اسلامی بیداری کی عظيم جد و جہد کے لئے بھی ایران کے اسلامی انقلاب کو ایک نمونہ عمل بنا کر پیش کردیا۔رہبر انقلاب اسلامی نے اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ سامراج اور دشمن ، ایران کے خلاف کیوں سازشیں اور صف بندیاں کرتا ہے فرمایا: کہ ان کا بنیادی ہدف ایران کو ترقی و پیشرفت سے روکنا ہے اور اس کے بڑھتے ہوئے انقلابی قدموں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے ۔
سامراجی طاقتیں اس ہدف کے حصول کے لئے انقلاب کی کامیابی کے چند عشروں کے بعد بھی امام خمینی رح کی سامراج دشمنی پر مبنی نظریات میں تحریف اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے مصروف ہیں حالانکہ امام خمینی نے اپنی تحریک کے دوران ایک لمحے کے لئے بھی امریکہ کی حقیقی سامراجی ماہیت کو آشکار کرنے اور اس کی مداخلتوں کی مذمت کرنے سے دریغ نہیں کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی امام خمینی اور انقلاب اسلامی سے دشمنی کی اصلی وجہ امام خمینی کے افکار و نظریات کا حقیقی اسلامی تعلیمات پر مبنی اور ان کا انقلابی ہونا ہے ۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کی ہے کہ ایرانی قوم نے امام خمینی رح کی انہی تعلیمات اور ان کے افکار و نظریات پر یقین نیز ظلم کے مقابلے میں قیام اور اپنی انقلابی ملت کے انقلابی عزم و ارادے پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے واضح اور روشن راستے کو جاری رکھا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ انہی خصوصیات کی بدولت امام خمینی کے انقلابی سیاسی افکار نہ صرف پائدار ، دائمی اور تخلیقی ہیں بلکہ اس انقلابی تحریک کا تسلسل عظیم اہداف کے حصول کاضامن بھی ہے۔ پس یہ مسلمہ بات ہے کہ اس طرح کی تحریک سامراجی طاقتوں کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں اور اسی وجہ سے عالمی سامراج ایران کے اسلامی انقلاب کے مقابلے میں کھڑا ہوگیا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلط کردہ جنگ ، اقتصادی پابندیاں، فتنہ و فساد اور دیگر تمام دشمنیوں کی بنیادی وجہ ایران کے اسلامی انقلاب کے اثرات سے خوف اور اسلامی انقلاب کا دوسروں کے لئے آئیڈيل اور نمونہ عمل بننا ہے۔
اسی وجہ سے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امام خمینی رح کے پیرو کار افراد نیز موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ انقلاب کی کامیابی اور اس کے اثرات کومحفوظ کرنے کے لئے بہت زیادہ قربانیاں منجملہ جنگ ،اقتصادی پابندیاں اور دیگر مشکلات برداشت کی گئی ہیں لیکن اس سے سیکڑوں گنا زیادہ فوائد بھی حاصہ ہوئے ۔ ایرانی قوم کو اس دوران جو عظیم ثمرات حاصل ہوئے ہیں وہ انقلابی روش اور انقلابی عمل کرنے کی وجہ سے ملے ہیں اور اس راستے کو جاری رکھ کر مستقبل میں بھی تمام مشکلات کے باوجود انقلاب کے اس طاقتور اور سایہ دار درخت سے بے شمار فوائد اور ثمرات حاصل کئے جاسکتے ہیں۔