-
انداز جہاں: ایران امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور
Feb ۱۷, ۲۰۲۶ ۱۵:۳۰نشر ہونے کی تاریخ 2026/02/17
-
جنیوا؛ عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور
Feb ۱۷, ۲۰۲۶ ۱۳:۳۴اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج جنیوا میں عمان کی ثالثی میں منعقد ہو رہا ہے۔
-
ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات، آج 17 فروری کو جنیوا میں
Feb ۱۷, ۲۰۲۶ ۰۴:۴۵آج 17 فروری کو ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں واقع عمانی سفارت خانے میں ہوں گے۔
-
انداز جہاں: میونخ میں ایران مخالف سیاسی سرکس
Feb ۱۶, ۲۰۲۶ ۱۵:۳۰نشر ہونے کی تاریخ 2026/02/16
-
منصفانہ معاہدے کے لیے جنیوا آئے ہیں،دھمکیوں کے آگے سرنہیں جھکائيں گے: سید عباس عراقچی
Feb ۱۶, ۲۰۲۶ ۱۵:۲۶ایرانی وزير خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حقیقی جدت عمل کے ساتھ منصفانہ اور متوازن سمجھوتے کے حصول کے لئے جنیوا آيا ہوں اور جو چیز ہرگز ہمارے ایجنڈے میں نہيں ہے وہ دھمکیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنا ہے ۔
-
ایران امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات، وزیر خارجہ تہران سے جنیوا کے لیے روانہ
Feb ۱۶, ۲۰۲۶ ۰۴:۳۴اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اتوار کی رات سفارت کاروں اور ماہرین کے ہمراہ جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد اور سفارتی مشاورت کے لیے تہران سے جنیوا روانہ ہوگئے۔
-
وزیر خارجہ کی علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری
Feb ۱۵, ۲۰۲۶ ۱۵:۳۶اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے عراق کے وزیر خارجہ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے
-
انداز جہاں: فلسطین اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال
Feb ۱۵, ۲۰۲۶ ۱۵:۳۰نشر ہونے کی تاریخ 2026/02/15
-
ایران پر جارحیت سے پورا علاقہ آگ کی لپیٹ میں آجائے گا: شیخ ماہر حمود
Feb ۱۵, ۲۰۲۶ ۰۸:۰۵علمائے استقامت عالمی یونین کے سربراہ شیخ ماہر حمود نے کہا کہ تجزیوں اور عام رائے کے مطابق، امریکہ ایران پر جارحیت کی حماقت نہیں کرے گا کیونکہ صیہونی حکومت ایران، یمن، عراق اور لبنان کے میزائلوں کو برداشت نہیں کرسکتی۔
-
ہند - امریکہ تجارتی معاہدہ کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے تباہ کن ہے : راہل گاندھی
Feb ۱۴, ۲۰۲۶ ۱۶:۱۸کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر کے مودی حکومت نے کپاس پیدا کرنے والے کسانوں اور کپڑا برآمد کرنے والوں کو گہرا جھٹکا دیا ہے۔