May ۰۲, ۲۰۱۹ ۰۲:۰۰ Asia/Tehran
  • شہید مرتضی مطہری اور روز معلم !

اگرچہ ہر دن روز معلم ہے، لیکن ایک خاص دن کو ان سے منسوب کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے مقام اور رتبے کو قومی سطح پر بلند کیا جائے، یعنی استاد کے احترام کا دن، استاد کی خدمات کی قدردانی کا دن، استاد کی حوصلہ افزائی کا دن، استاد سے ایک نئے جذبے کے ساتھ تجدید عہد کا دن، معاشرے میں استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا دن، آج ہم اپنے اساتذہ کرام سے بھی تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم کبھی ان کی زحمتوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔

حضرت علیؑ کا فرمان ہے: "جس نے مجھے ایک حرف سکھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا،" روایات کی رو سے ہر شخص کے تین باپ ہوتے ہیں، صلبی باپ، بیوی کا باپ یعنی سسر، وہ باپ جس نے  اسے تعلیم دی ہے۔

صلبی باپ اپنے بچے کو دنیا میں لانے کا سبب بنتا ہے، پھر اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت اور اس کے حوالے سے ہر قسم کی مشکلات برداشت کرتا ہے، یعنی ایک بہترین امانتدار کی مانند اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا رہتا ہے، پھر عالم شباب تک پہنچتے ہی اسے عقد ازدواج سے منسلک کر دیتا ہے، استاد وہ باعظمت ہستی ہے، جو انسان کو انسان بناتا ہے، ہدف انسانیت سے اسے آشنا کرتا ہے، انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے اسے آگاہ کرتا ہے، اسے معاشرے اور ملک کے لئے ایک مفید شہری بناتا ہے، اسے نشہ اور لہو لعب سے بچاتا ہے۔ان حوالوں سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ استاد کا حق بھی اپنے صلبی باپ سے کم نہیں،  اللہ تعالٰی نے اپنے پیغمبروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک بہترین استاد ہونا قرار دیا ہے، روایات میں سب سے بخیل اس شخص کو قرار دیا گیا ہے، جو اپنا علم دوسروں کو سکھانے میں بخل سے کام لیتا ہے، ساتھ ہی دوسروں کو تعلیم دینے کو علم کی زکواۃ قرار دیا گیا ہے۔

جس معاشرے میں جتنا استاد کا احترام زیادہ ہوگا، اتنا ہی وہ معاشرہ علمی اور دوسرے میدانوں میں زیادہ ترقی کر پائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو سرکاری وزیروں سے بھی زیادہ اہمیت اور احترام حاصل ہے، اسی وجہ سے وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہونے اور آیات و روایات میں استاد کا اتنا بڑا مقام بیان ہونے کے باوجود بھی ہمارے ہاں ان کا کماحقہ احترام نہیں کیا جاتا۔

 

استاد کی اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کی خاطر دوم مئی کو استاد شہید مرتضٰی مطہری کی یوم شہادت کی مناسبت سے اسے پورے ایران میں روز معلم کے عنوان سے منایا جاتا ہے، شہید جہاں ایک بہت بڑے فلاسفر، متکلم اور جدید اور قدیم علوم سے سرشار تھے، وہاں ایک بہترین پروفیسر بھی تھے، آپ نے مختلف موضوعات پر تیس سے زائد ضخیم کتابیں تالیف کیں، جن میں سے ہر ایک پی ایچ ڈی تھیسس کی مانند ہے۔ آپ کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہیں، یونیورسٹیوں میں آپ نے کثیر تعداد میں برجستہ شاگردوں کی تربیت کی۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اس دن کو یوم معلم کا نام دیا گیا ہے، تاکہ نئی نسل کو استاد کی اہمیت اور اس کے مقام سے آگاہ رکھا جاسکے۔

مدارس اور یونیورسٹیوں کی قربت میں شہید مطہریؒ کا کردار

ہم جہاں مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے لئے مزدور ڈے مناتے ہیں، کشمیر ڈے مناتے ہیں، مادر ڈے مناتے ہیں تو کیوں نہ ایک دن کو ہم اپنے اساتذہ سے منسوب کریں، اگر یہی اساتذہ نہ ہوتے تو  ہمارے معاشرے میں جہالت کا دور دورہ ہوتا، زندگی کے کسی بھی شعبے میں ترقی ممکن نہ ہوتی، نت نئی ایجادات سامنے نہ آتیں، چھوٹے بڑے کا احترام نہ ہوتا، اگرچہ ہر دن روز معلم ہے، لیکن ایک خاص دن کو ان سے منسوب کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے مقام اور رتبے کو قومی سطح پر بلند کیا جائے، یعنی استاد کے احترام کا دن، استاد کی خدمات کی قدردانی کا دن، استاد کی حوصلہ افزائی کا دن، استاد سے ایک نئے جذبے کے ساتھ تجدید عہد کا دن، معاشرے میں استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا دن، آج ہم اپنے اساتذہ کرام سے بھی تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم کبھی ان کی زحمتوں کو رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔ہم  ان کی بے لوث خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ان کے حوصلوں کی قدردانی کرتے ہیں، آج ہم اس حقیقت کے اعتراف کو اپنے لئے ایک اخلاقی اور شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ہماری تمام کامیابیوں میں ان کا عمل دخل ہے، ہمارے ہر کار خیر میں ان کا بھی ناقابل فراموش حصہ ہے، کیونکہ رحمت عالم کے فرمان کے مطابق جو کوئی سنت حسنہ چھوڑ کر چلا جائے تو اسے اس کا ثواب ملنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے والے کا ثواب بھی ملتا رہتا ہے، بغیر اس کے کہ اس عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع ہوجائے، ان میں سے ایک اہم سنت حسنہ اچھے شاگردوں کی تربیت ہے، شاگرد اپنے استاد سے تربیت پانے کے بعد اگر خدانخواستہ وہ استاد اس دنیا سے چلا بھی جائے، تب بھی اس شاگرد کے ہر کار خیر میں  قیام قیامت تک وہ استاد بھی شریک رہتا ہے۔

ہم اپنے اساتذہ کرام کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، جنھوں نے اپنی آسائشوں کو ہماری خاطر قربان کیا، جنھوں نے ہماری تربیت کی خاطر خون دل بہایا، جنہوں نے ہمیں شفقت پدری سے نوازا، جنہوں نے ہمیں بلند اہداف سے آشنا کیا، جنہوں نے ہمیں غلط سوسائٹی سے بچائے رکھا، جنہوں نے ہماری کامیابی کی خاطر طرح طرح کی زحمتیں اٹھائیں، جن کی راتیں ہمیں پڑھانے کا حق ادا کرنے کی خاطر مطالعے میں بیت گئیں، جنہوں نے اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں شریک رکھا، اگر ہم نے معاشرے میں تعلیم و تربیت کو عام کرنا ہے اور اپنی نئی نسل کے مستقبل کو تابناک بنانا ہے تو سب سے پہلے اچھے اساتذہ کی تربیت کرنا ہوگی، پھر ان کے احترام  کو معاشرے میں عام کرنا ہوگا، ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا، تاکہ وہ بغیر کسی مشکل کے اپنی پوری توجہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر صرف کرسکیں۔

جب معاشرے میں اساتذہ کا احترام بڑھے گا، تب اچھے اچھے افراد اس فیلڈ کا انتخاب کریں گے، جب اچھے افراد اس لائن میں آجائیں گے، تب ہماری اولاد کے لئے اچھے اساتذہ میسر آئیں گے، جب ان کے لئے اچھے اساتذہ فراہم ہوں گے، تب وہ اچھے شاگردوں کی بھرپور تربیت کرسکیں گے، جب ایسے افراد سے تربیت یافتہ افراد معاشرے میں قدم رکھیں گے تو ان کے قدم سے معاشرہ ہر جہت سے رشد اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

یاد رکھئے کہ بہترین استاد ہی بہترین نسلوں کی تربیت کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ رب العزت ہمارے گذشتہ اور موجود اساتذہ کرام کی ان بے لوث خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے اور ہمیں ان سے بھرپور رہنمائی لیکر اسے ملک و ملت کی ترقی اور سربلندی کے لئے وسیلہ بنانے کی توفیق دے، آمین ثم آمین۔

منبع: اسلام ٹائمز

 

افکار شہید مطہری رضوان اللہ تعالی علیہ

آیت اللہ شہید مطہری کہ جن کے بارے میں امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ وہ اُن کی مبارک زندگی کا حاصل ہیں،اُن کی قدر کریں اور بتائیں کہ شہید مطہریؒ (علم کا) ایک منفعت بخش اور جوش مارتا ہوا چشمہ تھے-

متفکرین کو چاہئیے کہ وہ شہید مطہری کی کتابوں کو مورد توجہ قرار دیں اور علمی تنقید کے ساتھ بحث کو آگے بڑھائیں اور جس سطح پر افکار کی بنیاد شہید مطہری نے رکھی ہے اُس پر جدید فکری بنیادوں کو تعمیر کریں۔۔

شہید مطہری ، حیات اور خدمات

استاد علامہ شہید مطہری کی شہادت 12 اردیبہشت ۱۳۵۸ ہجری  شمسی مطابق 2 مئی 1979ء میں اس وقت ہوئی کہ جب آپ ایک سیاسی ،فکری اہمیت کے حامل اہم ترین جلسے میں شرکت کرکے باہر نکلے  ،تو آپ کے سر میں گولی مار کر آپ کو شہید کر دیا گیا -

خدا کا درود و سلام ہو آپ کی روح پاک اور مطہرپر 

ٹیگس

کمنٹس