ہندوستان اور روس کے درمیان تعاون میں فروغ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i202328-ہندوستان_اور_روس_کے_درمیان_تعاون_میں_فروغ
ماسکو اور نئی دہلی کے دمیان تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے ہندوستانی وزیر اعظم روس کے دورے پر ہیں-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۴, ۲۰۱۵ ۱۳:۳۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان اور روس کے درمیان تعاون میں فروغ
    ہندوستان اور روس کے درمیان تعاون میں فروغ

ماسکو اور نئی دہلی کے دمیان تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے ہندوستانی وزیر اعظم روس کے دورے پر ہیں-

جمعرات کو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے روس پہنچنے پر اس ملک کے حکام نے ان کا استقبال کیا- ہندوستان ، سابق سویت یونین کے زمانے سے ہی ماسکو کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور طرفین فوجی اور ایٹمی میدانوں میں اپنے تعلقات کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں-

ہندوستان میں دوہزار چودہ میں قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس ملک میں فوجی قوت بڑھانے کا شوق پیدا ہوا اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے فوجی شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے بعض مراعات اور آسانیاں بھی مد نظر رکھی ہیں -

روس کے ساتھ ہندوستانی حکومت کا ایک پروگرام ، ہتھیاروں کی منڈی میں ہندوستان کی موجودگی کے لئے ماسکو کے ساتھ مل کر جنگی ساز و سامان تیار کرنے میں فوجی تعاون بڑھانا بھی ہے- اس سلسلے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں اعلان کیا ہے کہ دونوں ملک مشترکہ فوجی ساز و سامان بنانے کے لئے تیار ہیں اور براہموس میزائل ، لڑاکا طیارے اور کثیر المقاصد کارگو طیارے بنانے کے لئے اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں-

ماسکو سے نئی دہلی کی اہم درخواست ، اس ملک کے اندر ضرورت کے دفاعی ساز و سامان کے کل پرزے بنانے کا کارخانہ تیار کرنا ہے-

فوجی تعاون کے ساتھ ہی ، ایٹمی مسائل، زیرزمین ذخائر کے انکشاف، ہیڈروکاربن کی مشترکہ پیداوار، ایل این جی اور روس سے ہندوستان تک ایل این جی گیس پائپ لائن کی تعمیر کا مشترکہ جائزہ دونوں ملکوں کے مد نظر ان مسائل میں سے ہے کہ جن کے بارے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں-

نئی دہلی اور ماسکو نے ہندوستان میں ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے سلسلے میں روس کی شراکت پر اتفاق کیا ہے -

نریندر مودی اپنے دورہ ماسکو میں روسی حکام کو ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں بارہ سو میگاواٹ کے چھ ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کی تجویز دیں گے-

دونوں ملک "کامو/ ٹی دو سو چھبیس" ماڈل کے دو سو ہیلی کاپٹر بنانے کے لئے مشترکہ سرمایہ کاری کی کوشش کا بھی جائزہ لیں گے-

جو چیز روس کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ فوجی اور ایٹمی بالخصوص مشترکہ پروڈکشن کے لئے تعاون کو فروغ دینے کے لئے مزید توجہ کا اظہار کئے جانے کا سبب بنی ہے وہ ہندوستان کے فوجی ، ایٹمی اور میزائلی شعبوں میں روس کی جگہ لینے کی امریکہ کی کوشش ہے -ایک ایسا موضوع جس کے لئے وہائٹ ہاؤس کے حکام پورا زور لگا رہے ہیں- ہندوستان اپنی پینسٹھ فیصد فوجی ضروریات باہر سے پوری کرکے دنیا میں ہتھیار درآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں ہے کہ جو امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے لئے بہت اچھی منڈی ہے اور اسی بنا پر وہ ہندوستان سے روس کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں-

روس کی جانب سے ریڈار کی نظروں سے بچ نکلنے والے لڑاکا طیاروں کی پانچویں سیریز کی پیداوار میں شامل ہونے میں ٹال مٹول اور اس کے لئے مزید رقم کا مطالبہ اور امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو دی جانے والی ایٹمی اور فوجی مراعات اس بات کا باعث بنی ہیں کہ نئی دہلی ماسکو اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی راہ پر گامزن ہو- یہ وہ موضوع ہے جس سے روس زیادہ خوش نہیں ہے- نئی دہلی کی نظر میں بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں مختلف کھلاڑیوں کی موجودگی کی بنا پر خارجہ تعلقات میں روس کی ٹال مٹول اور مراعات و فائدہ اٹھانے کی پالیسی کی افادیت اب ختم ہو چکی ہے اور ماسکو کو چاہئے کہ اپنے شرکاء کی ضرورتوں پر بھی توجہ اور ان کا فورا مثبت جواب دے -