امریکی اور سعودی وزرائے خارجہ کی ایران پر الزام تراشی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i220222-امریکی_اور_سعودی_وزرائے_خارجہ_کی_ایران_پر_الزام_تراشی
امریکا اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے، ایسی حالت میں کہ ان دونوں مذکورہ ممالک کا یمن کے بے گناہ لوگوں کے قتل عام میں مشترکہ کردار ہے، اسلامی جمہوریہ ایران پر علاقائی ممالک میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۴:۵۴ Asia/Tehran
  • امریکی اور سعودی وزرائے خارجہ کی ایران پر الزام تراشی

امریکا اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے، ایسی حالت میں کہ ان دونوں مذکورہ ممالک کا یمن کے بے گناہ لوگوں کے قتل عام میں مشترکہ کردار ہے، اسلامی جمہوریہ ایران پر علاقائی ممالک میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کی شام کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ہمراہ نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے وقت علاقے کے موجودہ حقائق سے فرار اختیار کیا نیز اپنے اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر الزام تراشی کی۔ جان کیری نے کہا کہ، بقول ان کے، اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں جنگ بھڑکانے کے بجائے مثبت کردار ادا کرے۔ یہی نہیں جان کیری نے سعودی عرب کو یمن میں امن کا علم بردار بھی قرار دے ڈالا۔ جان کیری نے، کہ جن کے ملک نے ممنوعہ ہتھیاروں سمیت مختلف قسم کے ہتھیار، یمن میں جنگ کی آگ بھڑکانے کے لئے سعودی عرب کو دیئے ہیں، دعوی کیا کہ امن کی برقراری کے سلسلے میں، بقول ان کے، سعودی عرب کا کردار مثبت ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی جان کیری کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ دعوی کیا کہ ایران نے، بقول ان کے، علاقے میں دشمنانہ پالیسیاں اختیار کی ہیں اور کہا کہ اگر ایران ان پالیسیوں کو جاری رکھے گا تو اس کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی برقراری مشکل ہے۔

امریکی اور سعودی وزرائے خارجہ نے ایسے حالات میں مغربی ایشیا (مشرق وسطی) کے اسٹریٹیجک علاقے میں ایران کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے کہ جب سعودی عرب چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کے بے گناہ لوگوں پر وحشیانہ حملے کرکے ان کو خاک و خون میں غلطاں کر رہا ہے اور امریکا اس کی مدد کر رہا ہے۔ یمن پچھلے ایک سال میں امریکی ہتھیاروں سے سعودی عرب کی بھڑکائی ہوئی جنگ کی وجہ سے انسانیت سوز جرائم کی نمائش میں تبدیل ہوگیا ہے اور کسی بھی انسان کے لئے اس جنگ پسندی اور یمنی عوام کے امور میں آشکار و واضح مداخلت کی تصاویر دیکھ کر غمزدہ ہوجانا فطری بات ہے۔ عورتوں اور بچوں سمیت سات ہزار سے زیادہ بے گناہ یمنی شہریوں کا قتل عام، ہزاروں یمنی باشندوں کا زخمی ہونا اور بنیادی تنصیبات کی تباہی علاقے میں امریکا کی مدد سے سعودی عرب کی جنگ پسندی کا صرف ایک نمونہ ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومین رائٹس واچ، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن کے شمال مغرب میں گزشتہ پندرہ مارچ کو ہونے والے جارح سعودی اتحاد کے حملوں میں، جن میں امریکی بم استعمال کئے گئے، پچیس بچوں سمیت تقریبا" سو عام شہری مارے گئے۔ ہیومین رائٹس واچ کے ماہرین کو یمن میں اپنی تحقیقات کے دوران اٹھائیس مارچ کو استعمال شدہ امریکی بم کے ٹکڑے ملے۔ انسانی حقوق کی اس تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پندرہ مارچ کو یمن میں عام شہریوں پر ہونے والے سعودی عرب کے ایک خونریز ترین حملے میں ان ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جو امریکا کی طرف سے پیش کئے گئے۔

ثبوت و شواہد سے رائے عامہ کے لئے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب یمن میں جنگی مجرمین کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں پر الزام تراشی کرنے سے رائے عامہ کی سوچ نہیں بدل سکتی۔ سعودی عرب اور امریکا مغربی ایشیا کے علاقے میں اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ہر طریقہ اور ہر حربہ اختیار کرلیتے ہیں۔ اب اگر کوئی ان کے سامنے ڈٹ جائے اور حقائق کو سامنے لائے تو پھر وہ اس پر دشمنانہ پالیسی اختیار کرنے اور علاقے میں جنگ بھڑکانے جیسے الزام لگانے لگتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے، علاقے کی مظلوم اقوام کے واحد سچے حامی ملک کی حیثیت سے ہمیشہ زور زبردستی کرنے والوں اور تسلط پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکا کی جنگ پسندانہ پالیسی کے مقابل علاقے، خاص طور سے شام اور یمن، میں ایران کی پالیسی امن پسندانہ اور ثبات و سلامتی کی حامل ہے۔