صیہونی توسیع پسندی پر روک لگائی جائے
اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور کی جائے۔
ریاض منصور نے جمعے کے دن کہا کہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے عمل کے خلاف سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا عمل روکنے کےلئے مناسب تدابیر اختیار کرے۔ عالمی قوانین کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کرنا غیر قانونی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے لئے دوہزار پندرہ میں صیہونی حکومت کے بجٹ میں اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادھر رواں برس میں بھی فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا عمل پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت آباد کاروں کو صیہونی کالونیوں میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب دلانے کی غرض سے خصوصی مالی مراعات اور سہولیات دے رہی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ مختلف رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دوہزار چھے کے آغاز سے غرب اردن میں تقریبا پانچ سو مکانات اور اسکول منہدم کئے گئے ہیں۔
دوہزار بارہ سے دوہزار پندرہ تک ہر ماہ فلسطینیوں کی عمارتوں کے انہدام کی شرح تقریبا پچاس عمارتیں تھی لیکن جنوری میں یہ اوسط ہر ماہ میں ایک سو پینسٹھ عمارتوں تک پہنچ گیا ہے۔ فلسطینیوں کےگھروں کو وسیع پیمانے پر مسمار کرنے کے صیہونی اقدامات اور فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیاں تعمیر کرنے میں تیزی لانا عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے عمل میں تیزی آنے سے جارح صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ ماہیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ دوسری طرف حالیہ برسوں میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں میں شدت آنے کا مقصد ہی فلسطینیوں کے حقوق پامال کرنا منجملہ آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈالنا اور فلسطین کے بحران کو اپنے حق میں موڑنا ہے۔ ایسے حالات میں صیہونی کالونیاں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی سازشی اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔صیہونی حکومت فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیاں تعمیر کرکے فلسطینی علاقوں کو ایک دوسرے سے الگ کررہی ہے اور اس طرح آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل میں عملا رکاوٹیں پیدا کررہی ہے اس کے علاوہ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کرکے صیہونیوں کے حق میں فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی اور آبادی کا تناسب بگاڑ نا چاہتی ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ فلسطینی علاقوں میں تبدیلیاں لانا عالمی قراردادوں اور کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔یاد رہے کہ عالمی قوانین اور کنونشونوں میں صیہونی حکومت کو زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں تبدیلیاں لانے سے باز رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے ان کالونیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ان حالات میں عالمی رائے عامہ یہ چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی صیہونی حکومت کی لفطی مذمت پر اکتفا نہ کرے اور سلامتی کونسل بھی اس توسیع پسند حکومت کے مقابل اپنی کمزور پالیسیوں کو ختم کرے اور سنجیدہ پالیسیاں اپنا کر علاقے بالخصوص ارض فلسطین میں صیہونی حکومت کی جارحیت اور توسیع پسندی اور قبضے کی بساط لپیٹ دے۔