May ۰۸, ۲۰۱۶ ۲۱:۳۲ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی کابینہ کی تبدیلی میں محمد بن سلمان کا کردار

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز ملک کی کابینہ میں بدستور تبدیلی کر رہے ہیں

سلمان بن عبدالعزیز نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں ، سعودی عرب کے اقتصادی پروگرام برائے دوہزار تیس کے تناظر میں انجام پا رہی ہیں-

سعودی عرب کے بادشاہ کے فرمان کے مطابق بعض وزارت خانے منسوخ ، یا ضم کر دیئے گئے ہیں یا ان کی ذمہ داریاں اور کام تبدیل ہو گئے ہیں- سعودی عرب کی لیبر منسٹری اور سماجی امور سے متعلق وزارت خانوں کو ایک دوسرے میں ضم کر دیا گیا ہے ، وزارت پانی و بجلی کو تحلیل کر دیا گیا ہے اور وزارت حج کا نام تبدیل کر کے وزارت حج و عمرہ رکھ دیا گیا ہے-

سعودی عرب کے بادشاہ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فلاحی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں اور وزارت پیٹرولیئم کا نام تبدیل کر کے وزارت صنعت و توانائی رکھ دیا گیا ہے - ان تبدیلیوں کے تناظر میں اس ملک کے وزیرپیٹرولیئم علی النعیمی کو ان کے عہدے سے برطرف اور خالد الفا لح کو سعودی عرب کا وزیر توانائی و صنعت منصوب کر دیا گیا ہے- عل النعیمی انیس سو پنچانوے سے سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیئم تھے -

سعودی عرب کے وزیر توانائی و صنعت خالد الفالح اس سے قبل دوہزار نو سے سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کے سربراہ تھے-

سعودی عرب نے روزانہ اور خاص طور پر گذشتہ مارچ کے مہینے سے تقریبا دس ملین بیرل سے زیادہ خام تیل پیدا کیا اور کر رہا ہے- سعودی عرب کی کابینہ میں سب سے اہم تبدیلی اس ملک کے وزیرپیٹرولیئم کی برطرفی ہے کہ جو شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے فرمان سے انجام پائی اور اس برطرفی نے سعودی عرب کی تیل صنعت پر علی النعیمی کی اکیس سالہ سربراہی کے دور کو ختم کر دیا-

علی النعیمی کو ایسی حالت میں تبدیل کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ کے بیٹے اور ولیعھد کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتصادی مسائل و چیلنجوں اور تیل کے بحران کو محسوس کرنے کے بعد اس ملک کا اقتصادی منصوبہ تیار کیا-

شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتصادی پروگرام کا مقصد دوہزار تیس تک تیل پر سعودی عرب کا انحصار ختم کرنا ہے اور اس کی بنیاد پر سعودی عرب کے سماجی، سیاسی اور محکموں کے ڈھانچوں میں بنیادی تبدیلیاں انجام پا رہی ہیں- سعودی عرب کے نوجوان بادشاہ کو سماجی میدان اور اس میں تبدیلی لانے کے سلسلے میں اس ملک کے روایتی مذہبی دھڑے کی جانب سے بھرپور چیلنجوں کا سامنا ہے اور دوہزار تیس کے سعودی عرب میں سماجی بدامنی و بے چینی تصور کے برخلاف اور غیر متوقع نہیں ہے-

محمد بن سلمان آج کل نہ صرف اقتصادی امور میں احکامات جاری کر رہے ہیں بلکہ تیل کی اسٹریٹیجی کو بھی کنٹرول کر رہے ہیں اس کے علاوہ شہزادہ محمد بن سلمان جو سعودی عرب کے وزیر دفاع ہیں ، ریاض کی خارجہ پالیسی میں بھی مداخلت کر رہے ہیں -

شام کے صدر بشاراسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں ریاض حکومت کی ناکامی اور یمن کی تھکا دینے والی جنگ میں شکست ، خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے اکتیس سالہ وزیردفاع کی انتظامی صلاحیت کا ماحصل ہے- نوجوان سعودی شہزادہ صرف تخت حکومت پر بیٹھنے کے لئے تمام امور کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے تاکہ آخرکار سعودی عرب کے موجودہ ولیعھد محمد بن نایف کو برطرف کر کے اپنے لئے راستہ ہموار کرے-

اگرچہ سعودی عرب کا دوہزارتیس کا اقتصادی پروگرام ، اس ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ایک دلیرانہ پروگرام تھا لیکن شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ اقدام ، بغیر خوں ریزی کے انجام پانے والی ایک بغاوت کی مانند ہے کہ جس کے تحت وہ قدم بہ قدم امور کو آگے بڑھا رہے ہیں اور جہاں بھی کسی رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے وہاں راستے میں آنے والا شخص بادشاہ کے حکم سے معزول کر دیا جاتا ہے-