عراق کی قومی سلامتی کونسل کا اجلاس
عراقی شخصیتوں اور اداروں کی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ اس ملک کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے سیاسی عزم موجود ہے لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے کافی نہیں ہیں-
عراق کی قومی سلامتی کونسل نے آج نو مئی دو ہزار سولہ کو اس ملک کے وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہ حیدرالعبادی کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد کیا- مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے میں سیکورٹی فورسس کی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے اطمینان بخش منصوبوں اور سرکاری اداروں کی حمایت اس اجلاس میں زیر غور آنے والے اہم موضوعات تھے-
عراق نے گذشتہ تیرہ برسوں کے دوران ہرطرح کے بحران کا سامنا کیاہے- عراق کے خلاف امریکہ کی جنگ ، بے شمار دھماکے اور دہشت گردانہ کارروائیاں ، داعش دہشت گردوں کے ہاتھوں اس ملک کے بہت سے علاقوں پر قبضہ ، سرکاری عہدوں پر فائز اغیار سے وابستہ شخصیتوں کی خیانت اور نوری مالکی و حیدرالعبادی کی حکومتوں کے خلاف عوامی مظاہرے وہ اہم بحران ہیں جن کا گذشتہ تیرہ برسوں کے دوران عراق کو سامنا رہا ہے-
عراق کو اس وقت بھی سیکیورٹی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے- عراق کے کچھ حصے اب بھی داعش کے قبضے میں ہیں - ایسی حالت میں کہ جب عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس دہشت گردوں کے مقابلے میں اہم کامیابیاں حاصل کر رہی تھیں اور ملک کے مغربی علاقوں کے بہت سے اہم حصوں کو قبضے سے آزاد کرا لیا گیا تھا تاہم حکومت کے خلاف مقتدی صدر کے حامیوں کے مظاہرے ، بغداد کے گرین زون میں ان کا داخل ہو جانا اور پارلیمنٹ پر حملہ اس ملک میں نیا بحران پیدا ہونے کا باعث بن گیا-
مقتدی صدر کے حامیوں کے دھرنے کے نتیجے میں ، عراقی پارلیمنٹ کی سرگرمی گذشتہ تیس اپریل سے ٹھپ پڑی ہیں اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری کے بقول پارلیمنٹ کی کارروائیاں آئندہ منگل سے پھر سے شروع ہوں گی- عراق کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھی دو موضوعات ایک سرکاری اداروں کی حمایت اور دوسرے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر تاکید کی گئی- لیکن ثبوت و شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عراق کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے صرف سیاسی عزم کافی نہیں ہے-
عراقی حکومت کو بھر پور عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اور وہ ایک ساتھ سیکورٹی اور سیاسی دونوں بحرانوں کو حل نہیں کر سکتی- عراقی حکومت کو چاہئے کہ پہلے وہ اصلاحات پر عمل درآمد کے وعدے پر عمل کرکے کہ جو عوام بھی چاہتی ہے ، عوامی حمایت حاصل کرے-
دوسری جانب مقتدی صدر جیسی شخصیت کو بھی چاہئے کہ وہ عراق کی سیکورٹی کی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ، حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں-
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بحران عراق صرف اس ملک کے حکام کے فیصلوں سے حل ہونے والا نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بعض علاقائی اور عالمی طاقتوں کے عزم کی بھی ضرورت ہے- بعض ممالک خاص طور سے سعودی عرب اور امریکہ اپنا مفاد عراق میں سیاسی و سیکورٹی بحرانوں میں شدت میں ہی سمجھتے ہیں-
ان حالات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق میں حالات کو معمول پر واپس لانے کے لئے سیاسی عزم ایک ضرورت تو ہے لیکن کافی نہیں ہے-