اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر ایک سو چورانوے پر عملدرآمد کا مطالبہ
آج پندرہ مئی ارض فلسطین پر صیہونی حکومت کی تاسیس کا دن ہے۔ اڑسٹھ برس قبل اسی دن صیہونی حکومت نے ارض فلسطین پر اپنے وجود کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد لاکھوں فلسطینیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور وہ بے گھر ہوگئے۔ اس دن کی مناسبت سے فلسطین کی قومی کونسل نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قرار داد نمبر ایک سو چورانوے پر ، کہ جس کی منظوری کو کئي عشرے گزر چکے ہیں، عمل کرے۔یہ قرارداد فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کے بارے میں ہے۔
فلسطین کی قومی کونسل نے فلسطین پر صیہونیوں کے قبضے کے دن کی مناسبت سے جسے یوم النکبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ایک بیان جاری کر کے فلسطین کی آزادی کے ھدف اور فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق پر تاکید کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کی وطن واپسی کے بارے میں قرارداد نمبر ایک سو چورانوے پر عمل درآمد کرے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا حق ایک مقدس حق ہے اور اس پر کسی طرح کے مذاکرات نہیں کئے جاسکتے اور کوئي بھی اس حق سے چشم پوشی نہیں کرسکتا۔
واضح رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گيارہ دسمبر انیس سو اڑتالیس میں قرارداد نمبر ایک سو چورانوے پاس کی تھی اور اڑسٹھ برس قبل فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق پر مہر تائيد ثبت کی تھی اور صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس سلسلے میں رکاوٹیں نہ ڈالے۔ فلسطین پر صیہونی حکومت کے قبضے کو اڑسٹھ برس گزر رہے ہیں اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے فلسطینی پناہ گزین بدستور اپنے وطن واپس جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ فلسطینی قوم ہر سال اس دن صیہونی قبضے کے بعد صیہونی دہشتگرد گروہوں کے ہاتھوں لاکھوں فلسطینیوں کی شہادت کی یاد تازہ کرنے کے لئے مختلف طرح کے پروگرام منعقد کرتے ہیں اور انیس سو اڑتالیس اور انیس سو سڑسٹھ کے مقبوضہ علاقوں میں سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں اور فلسطینی پناہ گزینوں کے وطن واپسی کے حق پر تاکید کرتے ہوئے ان کے پسماندگان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس وقت دیگر ملکوں اور پناہ گزین کیمپوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد تیس لاکھ بتائي جاتی ہے۔ فلسطینی پناہ گزین برسوں سے اپنے وطن واپس جانے کے لئے لمحے گن رہے ہیں اور بہت سے فلسطینی اس دوران اپنے وطن جانے کی آرزو لے کر غریب الوطنی میں ہی ملک عدم سدھار گئے۔صیہونی حکومت نے مقبوضہ سرزمینوں کا الحاق کرنے کا بل منظور کروا کر شروع ہی سے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا راستہ بند کرنے کی سازش پرعمل کرنا شروع کردیا تھا لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انیس سو اڑتالیس میں قرار داد نمبر ایک سو چورانوے منظور کر کے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق کو مسلم حق کی حیثیت سے منظور کیا اور اس فیصلے کو بین الاقوامی قانونی سند قرار دیا ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ دو مرحلوں پر مشتمل ہے اور انیس سو اڑتالیس نیز انیس سو سڑسٹھ میں جون کی جنگ سے متعلق ہے ان برسوں میں صیہونی درندوں نے جنگ، ٹارگٹ کلنگ، تخریب کاری اور فلسطینیوں کے قتل عام، فلسطینیوں کو جبرا گھر بار چھوڑ کر کوچ کرنے پر مجبور کرنے نیز ان کی زمینیں اور گھروں کو ضبط کرنے جیسے حربوں سے فلسطینیوں کو ان کی مادری سرزمین سے نکال باہر کیا اور انہیں واپس آنے سے روکا۔ فلسطینیوں نے اپنے ہمسایہ ملکوں میں پناہ لی، اسی طرح عراق، کویت، لیبیا، الجزائر، اردن، شام اور لبنان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے اس کے علاوہ لاکھوں فلسطینی غرب اردن اور غزہ میں کیمپوں میں پناہ گزینوں کی زندگي گزارنے پر مجبور ہوئے۔ فلسطینیوں کے بہت سے پناہ گزیں کیمپ بدستور قائم ہیں اور ان کیمپوں میں بسنے والے فلسطینی اپنے وطن جانے کی امید لئے بیٹھے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ آوارہ وطن افراد کی تعداد فلسطینیوں کی ہے اور اقوام متحدہ کی روزگار اور امداد فراہم کرنے والی ایجنسی نے کہا ہےکہ دو ہزار بیس تک فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد بہتّر لاکھ تک پہنچ جائے گي۔