چین اور امریکہ کی کشمکش
امریکہ جنوبی چینی سمندر میں اپنی تسلط پسندانہ کاروائیاں انجام دے رہا ہے۔
چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی چینی سمندر میں اپنی جاسوسی کی کاروائیاں اور بحری اقدامات کا خاتمہ کرے۔ حال ہی میں چین کے دو جنگی طیاروں نے امریکی جاسوس طیاروں کا پیچھا کرکے جنوبی چینی سمندر میں انہیں جاسوسی کی کاروائیوں سے باز رکھا۔ گذشتہ دو برسوں میں جب سے جنوبی چینی سمندر میں اسپراٹلی جزیروں کے بارے میں اختلافات میں اضافہ ہوا ہے شاید ہی کسی دن جنوبی چینی سمندر کے علاقے پر امریکہ کے جاسوس طیاروں نے پروازیں نہ کی ہوں اور امریکی جنگی بحری جہاز اس علاقے میں نہ آئے ہوں۔امریکی سفارتکاروں نے کبھی اشارے کنائے اور کبھی واضح طور پر کہا ہے کہ جنوبی چینی سمندر میں امریکی بحری جنگی جہازروں کی آمد اور امریکی جنگی طیاروں کی پروازوں کو علاقے میں امن و استحکام کی برقراری کے معمول کے اقدامات قراردیا اور کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد جنوبی چینی سمندر میں فوجی موجودگی کا سد باب کرناہے۔ واضح رہے اس علاقے میں امریکہ کی موجودگی کو واشنگٹن کے ایشین اتحادیوں کی حمایت قراردیا جارہا ہے۔
جنوبی چینی سمندر میں اسپراٹلی اور نانشا جزائر اس علاقے کے درمیان بھرپور کشیدگی کا سبب بن چکا ہے کیونکہ اس علاقے کے ممالک ان پر مالکیت کے دعویدار ہیں۔ چین یہ کہتا ہے کہ یہ جزیرے اس کے ہیں اور ان پر اپنی مالکیت کے دعوے کے اثبات کے لئے برسوں قبل یہاں پر فوجی تنصیبات بنا رکھی ہیں اسکے ساتھ ہی اس نے مصنوعی جزائر اور رن ویز بھی بنا رکھے ہیں۔ ویتنام اور فلپائین بھی ان جزائر کی ملکیت کے دعویدار ہیں یا کم از کم ان کے کچھ حصوں کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنے مواقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان جزائر کے تعلق سے ان دو ملکوں کے ساتھ چین کی لفظی جنگ سبب بنی ہے کہ منیلا اور ہانوی کے ساتھ بیجنگ کے تعلقات خراب ہوجائیں اور ان اختلافات کو حل کرنے کے لئے کسی حد تک سفارتکاری سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے۔ اگرچہ چین اپنی قومی فوجی اور دفاعی توانائیوں سے اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن جنوبی چینی سمندر میں بعض مسائل سے چین کو تشویش لاحق ہوچکی ہے۔ امریکی صدر اوباما اکیس مئی سے اٹھائیس مئی تک بعض ایشین ملکوں کا دورہ کررہے ہیں اور جاپان میں جی سیون ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، ان کے پروگرام میں ویتنام کا دورہ کرنا بھی شامل ہے اور اسے ان کے ایشین ملکوں کے دورے کا اہم ترین مرحلہ قراردیا گیا ہے۔
اس بات کا احتمال دیا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ایشیا کے دورے میں اپنے دوستوں کو اطمینان دلائیں گے کہ وہ امریکہ کی حمایتوں پر بھروسہ کرسکتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ عملی طور سے چاہتا ہے کہ ایشیا کو چین کے ساتھ کھلم کھلا اور خفیہ تقابل کا میدان بنادے کیونکہ امریکہ کا ایک پروگرام ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوے سیاسی اثر ورسوخ اور طاقت پر روک لگانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اوباما ایشین اسٹراٹیجی پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں یہ اس معنی میں ہے کہ امریکہ سکیورٹی کے لحاظ سے چین کے سامنے چیلنج کھڑے کرنا چاہتا ہے۔ فلیپائن اور ویتنام کے لئے امریکہ کی فوجی امداد کو اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ چین امریکہ کے ان اقدامات کو علاقے میں مداخلت پسندانہ اقدامات قرار دیتا ہے۔ بیجنگ کے حکام کی نظر میں امریکہ اپنے اتحادیوں کی حمایت کے بہانے یہ دعوی کررہا ہے کہ جنوبی چینی سمندر چین کی ملکیت نہیں ہے اور اس بہانے ایشیا میں اپنی فوجی تسلط پسندی کو بڑھا وا دینا چاہتا ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی اگرچہ سیاسی، اقتصادی اور فوجی امور کو شامل ہوسکتی ہے اور امریکہ تایوان اور تبت میں علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہا ہے لیکن امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی کی اہم ترین دلیل امریکہ کے بقول چین کے بڑھتے ہوئے فوجی خطروں کے مقابل اپنے ایشین اتحادیوں کی حمایت کرنا ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جو امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات کا مرکز بنا رہ سکتا ہے۔