ایک نئے اجتماعی سلامتی کے نظام کے قیام کا، پوتن کا مطالبہ
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز روسی پارلمینٹ ڈوما میں حاضر ہوکر تقریر کی اور ایک نئے اجتماعی سلامتی کے نظام کے قیام کا مطالبہ کیا-
صدر پوتن نے اپنی تقریر میں ایک ایسے اجتماعی سلامتی کے نظام کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے جو یکساں طور پر تمام ملکوں کے فائدے میں ہو، اس سلسلے میں مذاکرات کے لئے روس کی آمادگی کا اعلان کیا - پوتن کے بقول ایک خودمختار اور یکساں اجتماعی سلامتی کے نظام کا قیام تمام ملکوں کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور روس نے بارہا اس سلسلے مین مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے- پوتن نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو اس وقت سے سب سے اہم خطرہ دہشت گردی سے لاحق ہے لیکن نیٹو روس کی سرحد کے قریب اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے میں مصروف ہے- پوتن کے بقول نیٹو نے روس کے خلاف اپنی جارحانہ بیان بازی میں اضافہ کردیا ہے اور ماسکو مجبور ہے کہ وہ بھی اسی کے جیسا بیان دے- گذشتہ ڈھائی سال کے دوران خاص طور پر یوکرین کے بحران کے بعد، روس کے خلاف نیٹو کے جارحانہ موقف کے بارے میں پوتن کا بیان اہمیت کا حامل ہے- مشرقی یورپ میں خاص طور پر روس کی مغربی سرحدوں کے اطراف میں نیٹو کی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ اور نیٹو کا دشمانہ رویہ نیز مشرق کی جانب نیٹو کی پیشقدمی اس بات کا باعث بنی ہے کہ روس اپنی قومی سلامتی کی اسٹریٹیجی میں، نیٹو کو روس کی قومی سلامتی کے لئے ایک خطرہ قرار دے- کریملن کے سربراہوں کی نظر میں روس کے خلاف مغرب کی دشمنی کا سلسلہ پائیدار ہے اور یہ جلدی ختم ہونے والا نہیں ہے- اس کی سامنے کی مثال یہ ہے کہ ماسکو نے نیٹو سے بارہا اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ "مشرقی ملکوں کی جانب توسیع کی پالیسی" سے باز آجائے لیکن مغرب نے نہ صرف اس کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے بلکہ مسلسل روس کے خلاف اپنے دشمنانہ اقدامات میں اضافہ کر رہا ہے- ایک اور مسئلہ جس سے ماسکو سے مغرب کی دشمنی ظاہر ہوتی ہے ، روس کے خلاف پابندیوں کو جاری رکھنا ہے- یوکرین کے بحران کو لے کر امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے خلاف گذشتہ دو برس سے متعدد پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ ماسکو کو اپنے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں- مغربی ممالک یوکرین کے بحران کے حوالے سے، ماسکو کی پالیسی میں تبدیلی لانے میں پرعزم ہیں اور اسی لئے وہ روس کو کمزور کرنے کے لئے پابندیوں کا حربہ استمعال کر رہے ہیں-
ان سب کے باوجود ماسکو یورپ میں کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے - اس سلے میں پوتن نے ڈوما میں تقریر کرتے ہوئے یورپ کی سطح پر اجتماعی سلامتی کے نظام کے قیام کی بات کہی ہے- اس سے قبل روسی وزیر خارجہ نے بھی ایسی ہی تجویز پیش کی تھی- ماسکو کے نقطہ نگاہ سے یورپ میں ایک نئے اجتماعی سلامتی کے نظام کا قیام ، تمام خطروں سے مقابلے کے لئے یورپی ملکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی وجود میں آنے کا باعث بنے گا - جیسا کہ پوتن کی نظر میں یورپ کے خلاف اس وقت اہم خطرہ، دہشت گردی ہے- کریملین کے سربراہوں کے نقطہ نظر سے یورپ کی سلامتی ، خود یورپیوں سے متعلق ہے اور یورپ کے سیکورٹی کے معاہدے میں امریکہ کی موجودگی، روس کے ساتھ دشمنی پیدا ہونے کا باعث بنی ہے اور یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر، ماسکو کے خلاف موقف اپنا رہے ہیں- جیسا کہ یہ مسئلہ اس وقت حقیقت اختیار کرچکاہے اور امریکہ نے یورپی ملکوں کے درمیان روس سے دشمنی کی ترویج کے لئے اقدامات کئے ہیں اور وہ یورپ میں اینٹی میزائل دفاعی سسٹم کی تعیناتی اور مشرق کی جانب توسیع کا اقدام جاری رکھے ہوئے ہے- یہ وہ اقدامات ہیں کہ جس پر روس کا ردعمل فطری ہے اور نتیجے میں مشرقی یورپ میں سیکورٹی بحران وجود میں آنے کا باعث بنے ہیں-