تھریسیا مے برطانیہ کی نئی وزیر اعظم
تھریسیا مے کل بدھ سے برطانیہ کی وزارت عظمی کی باگ ڈور سنبھال لیں گی۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے کہا ہے کہ بدھ کے روز پارلیمنٹ میں سوال و جواب کا جلسہ ان کا آخری جلسہ ہوگا اور وہ اس کے بعد استعفی دینے ملکہ الیزیبتھ کے پاس جائیں گے۔ کیمرون نے یہ بات اس وقت کہی جب وزارت عظمی کی دوڑ سے تھریسا مے کا آخری حریف بھی نکل گیا تھا۔ کیمرون نے کہا کہ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ تھریسا مے ان کی جانشین بن رہی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ایک مضبوط ارادے کی مالک اور لائق فرد ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم نے برطانیہ میں ریفرینڈم کے نتائج آنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اپنے عھدے سے استعفی دیدیں گے۔ برطانوی عوام نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ تھریسیا مے انسٹھ سالہ خاتون ہیں جنہیں بعض لوگ آئرن لیڈی کہتے ہیں۔ وہ کنزرویٹیو پارٹی کی معروف رہنما ہیں اور انہیں سخت نظریات رکھنے والا رہنما مانا جاتا ہے۔ وہ حالیہ ریفرینڈم سے پہلے یورپی یونین میں باقی رہنے کی حامی تھیں لیکن ریفرینڈم کے نتائج سامنے آنے کےبعد انہوں نے کہا ہےکہ سب کو اس کے نتائج کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے یورپی یونین سے نکلنے کےعمل کو مکمل کریں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کےبعد یورپی یونین کے رہنماوں سے برطانیہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے بہترین معاہدہ کریں گی۔
تھریسیا مے ایسے حالات میں برطانیہ کی وزارت عظمی کا عھدہ سنبھال رہی ہیں کہ یہ دور سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے حساس دور سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ ایسے حالات میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے مسائل حل کریں جب کہ انہیں برے اقتصادی حالات، دہشتگردی کے مسائل، پناہ گزینوں کے مسلئے نیز یورپ کی افرادی قوت کی مہاجرت کو روکنے جیسے مسائل نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ان تمام مسائل کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ کی نئی وزیر اعظم کے سامنے خاصی مشکلات ہونگی۔ ادھر ملک کے نئے وزیر اعظم کو منتخب کرنے کے لئے لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹیوں نے وقت سے پہلے پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبرپارٹی میں الیکشن کوآرڈی نیٹر جان ٹریکیٹ نے کہا ہےکہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے نتیجے میں آنے والے عدم استحکام کی بنا پر برطانیہ کا وزیر اعظم جمہوری طریقے سے منتخب ہونا چاہیے۔ ادھر لیبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما ٹم فیرون نے کہا ہےکہ قدامت پسندوں کو کوئی حق حاصل نہیں ہےکہ وہ عوام کے فیصلے کو نظر انداز کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وزیر اعظم کے بارے میں عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس طرح ہمیں برطانیہ میں آئندہ کے سیاسی حالات کامنتظر رہنا پڑے گا کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں۔یورپی یونین سے تھریسا مے کے آئندہ مذاکرات جن میں جرمن چانسلر انجیلامرکل نیز یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبہ کی سربراہ فیڈریکا موگرینی بھی شامل ہونگی جو مذاکرات کرنے میں بڑی ماہر سمجھی جاتی ہیں تھریسا مئے کے سامنے آنے والے حساس مسائل ہیں۔ دوسری طرف سے قبل از وقت انتخابات کرانے کے لئے اپوزیشن پارٹیوں کا دباؤ اور اس کے مسائل سے بھی برطانیہ کی نئی وزیر اعظم کا راستہ کٹھن ہوجائے گا۔