عراقی فورسز موصل کو آزاد کرائیں گی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i238270-عراقی_فورسز_موصل_کو_آزاد_کرائیں_گی
عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوج موصل کو آزاد کرانے کی کاروائیوں میں لگی ہے اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عراق داعش کو نابود کرنے کی توانائی رکھتا ہے نیز صوبہ الانبار سے جو لوگ نقل مکانی کرگئے تھے وہ واپس آرہے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۲۲, ۲۰۱۶ ۱۴:۵۷ Asia/Tehran

عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فوج موصل کو آزاد کرانے کی کاروائیوں میں لگی ہے اور اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عراق داعش کو نابود کرنے کی توانائی رکھتا ہے نیز صوبہ الانبار سے جو لوگ نقل مکانی کرگئے تھے وہ واپس آرہے ہیں۔

عراق کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ عراقی افواج مکمل خود اعتمادی کے ساتھ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے آخری اور اہم ترین اڈے موصل کو آزاد کرانےکی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا چونکہ موصل میں عام لوگ موجود ہیں لھذا اس شہر کو آزاد کرانے کے لئے بڑے حوصلے اور ہوشیاری سے کام کرنا پڑے گا۔

عراقی وزیراعظم نے کہا کہ تکفیری صیہونی دہشتگرد گروہ داعش کو نابود کرنے کے لئے عالمی تعاون ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موصل میں داعش کے مکمل صفائے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا کہ عراقی حکومت پختہ عزم رکھتی ہے کہ رواں برس کے اختتام تک عراق میں داعش کا خاتمہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ موصل کے جنوبی علاقے القیارہ میں عراقی فورسز کی پیش قدمی کی بنا پر اس علاقے میں موجود داعش کے دہشتگرد پسپائی اختیار کررہے ہیں۔

خالد العبیدی نے کہا کہ عراق کی سرزمین کا محض دس فیصد حصہ داعش کے قبضے میں ہے۔ ادھر عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یان کوبیس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عراقی فورسز دہشتگرد گروہ داعش سے لڑنے کی توانائی رکھتی ہیں کہا کہ عالمی برادری کی مدد سے عراق تیزی سے داعش کو شکست دے دے گا اور موصل کی آزادی کی کارروائیاں اسی بات کی دلیل ہیں۔ عراق کی فوج نے فلوجہ کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شمالی عراق میں بھی کارروائیاں شروع کی تھیں، ان کارروائیوں میں عراقی فوج نے دسیوں دیہی علاقوں کوآزاد کرالیا ہے اور جنوبی موصل کا بڑا علاقہ بھی عراقی فوج کے کنٹرول میں آگیا ہے۔  

موصل میں فوج کے آپریشن کے موقع پر مختلف حلقے اظہار نظر کررہے ہیں۔ ادھر عراق کے وزیر منصوبہ بندی سلمان الجمیلی نے کہا ہے کہ الرمادی شہر کے ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ اپنے گھر لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں امن و سلامتی قائم رکھنا، سڑکوں کو محفوظ بنانا اور گھروں کا تحفظ، بارودی سرنگوں کوناکارہ بنانا اور داعش دہشتگردوں کے ہاتھوں نصب کیا گیا بارودی مواد ناکارہ بنانا عراقی فورسز کی ذمہ داری ہے اور دوسرے مرحلے میں شہریوں کو رفاہ عامہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

واضح رہے عراقی فورسز نے رواں برس کے اوائل میں الرمادی کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے قبضے سے مکمل طرح سے آزاد کرالیا تھا۔ ایسے حالات میں حزب اللہ عراق بٹالین کے ترجمان نے کہا ہے کہ عراق کو داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے بیرونی افواج بالخصوص امریکی فوج کی ضرورت نہیں ہے اورعراقی فوج عوامی رضاکاروں کی حمایت سے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرالے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور عراقی گروہ اپنے ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے مخالف ہیں۔

ادھرعراق کے بدرآرگنائزیشن کے سربراہ ہادی العامری نے اس سلسلے میں کہا کہ بغداد موصل کی آزادی کی کارروائیوں میں امریکی فوجیوں کی شرکت کا مخالف ہے کیونکہ عراقی عوام نے جس طرح سے بیجی، فلوجہ اور قیارہ کو دہشتگردوں سے آزاد کرایا تھا اسی طرح وہ موصل کو بھی آزاد کرانے کی توانائی رکھتے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے گیارہ جولائی کو اعلان کیا تھا کہ پانچ سو ‎ساٹھ امریکی فوجی شہرموصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں میں شرکت کرنےعراق بھیجے جائیں گے۔