Aug ۱۷, ۲۰۱۶ ۱۶:۴۷ Asia/Tehran
  • یمنی عوام کا قتل عام، سعودی عرب کے سامنے اقوام متحدہ کے جھکنے کا نتیجہ

سعودی عرب کی حکومت اقوام متحدہ کو مالی مدد دینے کے بدلے میں کسی تنقید اور مذمت کو برداشت نہیں کرتی ہے اور خود کو جنگ یمن میں حق پر سمجھتی ہے۔

یمن میں اسپتالوں اور غیرفوجی مراکز پر سعودی عرب کے حملوں پر اقوام متحدہ کی تنقید میں اضافے کے بعد سعودی حکومت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کو دھمکی دی ہے کہ وہ اس عالمی ادارے کو دی جانے والی کروڑوں ڈالر کی مدد روک دے گی۔

اقوام متحدہ نے سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی جانب سے یمن کے طبی اور غیرفوجی مراکز پر بمباری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاض پر سخت تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اطلاعات کے شعبے کے ڈائریکٹر السانڈرا ولوچی نے کہا ہے کہ یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی بمباری کی وجہ سے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز تنظیم کے تین مراکز سمیت کہ جن میں طبی سازوسامان رکھا ہوا تھا، ستر سے زائد طبی مراکز اور اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے گزشتہ ہفتے کے روز سے تین بار غیرفوجی مراکز پر بمباری کر کے بےگناہ عام شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا ہے۔ پیر کے روز صوبہ حجہ کے شہر عبس میں ایک اسپتال کو سعودی جنگی طیاروں نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا جس میں پندرہ افراد جاں بحق اور کم از کم انیس زخمی ہو گئے۔

منگل کے روز بھی یمن میں ایک اسپتال پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں نو عام شہری جاں بحق ہو گئے۔ اس سے قبل بھی سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز صوبہ صعدہ کے شہر حیران کے علاقے جمعہ بن فاضل میں قرآن کریم حفظ کرنے کے ایک مدرسے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تیرہ بچے جاں بحق اور اٹھارہ زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ یمن میں سعودی عرب کے اقدامات کو سیاسی نظر سے دیکھتا ہے اس چیز نے سعودی عرب کو عورتوں اور بچوں سمیت یمن کے بےگناہ عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے میں اور زیادہ جری اور گستاخ کر دیا ہے۔

جنگ اور مسلح تنازعہ کے زمانے میں سعودی عرب کی بچوں اور عام شہریوں کے حقوق سے بے توجہی کے باعث اقوام متحدہ نے سعودی حکومت کا نام بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا لیکن سعودی عرب نے اقوام متحدہ کو دی جانے والی امداد بند کرنے کی دھمکی دی جس کے دباؤ میں آ کر اس عالمی ادارے نے انتہائی شرم ناک اقدام کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے چھے جون کو سعودی اتحاد کا نام عارضی طور پر بچوں کے حقوق پامال کرنے والوں کی بلیک لسٹ سے نکال دیا تاکہ اقوام متحدہ اور سعودی عرب اس بارے میں مشترکہ طور پر تحقیقات انجام دیں۔ مشترکہ تحقیقات کے لیے ہونے والے معاہدے کے باوجود سعودی عرب نے اس کام سے روگردانی کی اور اب یمن میں سعودی عرب کے انسانیت کے خلاف جرائم میں مزید جرائم کا اضافہ ہو گیا ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں اقوام متحدہ کی معنی خیز خاموشی اور سیاسی رویے کا یمن کے بےگناہ عوام کے قتل عام کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں نکلا ہے اور یمن میں سعودی عرب کے جرائم کی تصاویر اس کے خلاف کارروائی کے لیے ٹھوس ثبوت ہیں۔

یمن میں سعودی عرب کے جرائم کی دلخراش تصاویر ساری دنیا کے سامنے موجود ہیں اور بین الاقوامی معیارات، انسانی حقوق اور سب سے بڑھ کر انسانی ضمیر تمام حکومتوں اور گروہوں کو جنگ اور مسلح تنازعہ کے زمانے میں عام شہریوں اور غیرفوجی بنیادی تنصیبات کی حفاظت کا ذمہ دار بناتا ہے لیکن سعودی عرب کی بچوں کی قاتل حکومت بین الاقوامی اداروں کی کمزوری کی وجہ سے جنگ یمن میں کسی حدود کو نہیں مانتی ہے۔

یمن کے عام شہریوں کا قتل عام جاری رہنا اور اس ملک میں طبی مراکز کو نشانہ بنانا، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے سعودی عرب کی خدمت گزاری کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب عالمی امن و سلامتی کے حامی ادارے اقوام متحدہ کو، مالی امداد منقطع کرنے کے ہتھکنڈے سے بلیک میل کر رہا ہے۔

یہ طرزعمل بہت خطرناک بدعت ہو گی کہ جس کے جاری رہنے سے یمن کے عوام وہ واحد قوم نہیں ہوں گے کہ جو اس بدعت کا شکار ہوں گے۔