سعودی عرب کے معاشی مسائل میں اضافہ
دوہزار چودہ تک جو اقتصاد ، سعودی عرب کے لئے ایک موقع اور اس کا ایک مضبوط پہلو تھا وہ شاہ سلمان کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں اس ملک کے لئے ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہوگیا ہے-
امریکہ کے سی این بی سی ٹی وی نے اپنی عربی ویب سائٹ پرلکھا ہے کہ سعودی عرب کو سن دوہزارسولہ میں تقریبا سو ارب ڈالر بجٹ خسارے کا سامنا ہے- گذشتہ دو برسوں کے دوران، ذرائع ابلاغ اور اقتصادی ادارے بارہا سعودی عرب کے اقتصادی انحطاط کی خبریں دیتے رہے ہیں- شماریاتی اشارے بھی سعودی عرب کے اقتصادی مسائل و مشکلات کے سلسلے میں آنے والی رپورٹوں کی تصدیق کرتے ہیں - دوہزار چودہ میں سعودی عرب کا جی ڈی پی خسارہ تقریبا تین اعشاریہ چار فیصد تھا جو دوہزارپندرہ میں بڑھ کر سولہ اعشاریہ تین ہوگیا- دوہزارپندرہ میں سعودی عرب کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک سو سولہ ارب ڈالر کی کمی آئی ہے- اقتصادی مسائل ومشکلات بڑھنے سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے سعودی عرب کے عوام کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا- بلومبرگ نیوزایجنسی نے ابھی حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ اخراجات کو کنٹرول کرنے اور انرجی کی برآمدات پر انحصار کم کرنے کے لئے سعودی حکومت کے منصوبوں سے سعودی صارفین پر دباؤ بڑھا ہے- تیل ، بجلی اور پانی کے لئے سبسیڈ میں کمی آچکی ہے اور اس میں مزید کمی ہونے والی ہے - بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کم کرنا چاہتا ہے اور حکومت کے پروگرام کے مطابق دوہزار بیس تک سرکاری محکموں کی تنخواہیں پینتالیس فیصد سے کم کر کے چالیس فیصد کردی جائیں گی - سعودی عرب کی معیشت کو متعدد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے - ان میں سب سے اہم مسئلہ ، اقتصاد پر حکومت کا کنٹرول اور تہترفیصد بجٹ کا انحصار تیل کی آمدنی پرہونا ہے- معیشت پر حکومت کے تسلط کے باعث سترفیصد افرادی قوت حکومت کی ملازمت میں ہے- ملک کی تہترفیصد آمدنی کا انحصار تیل کی فروخت پر ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی سعودی عرب کی معیشت پر دباؤ کا سبب بنی ہے- دوہزارچودہ میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر دوہزارسولہ کے اوائل میں چھبیس ڈالر فی بیرل تک گرگئی - تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک اہم وجہ علاقائی حالات اور تبدیلیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں آل سعود کی مقابلہ آرائی پر مبنی پالیسیاں ہیں کہ جن کا مقصد تیل کی قیمتوں میں کمی لا کر ایران کے اقتصاد کو نقصان پہنچانا ہے- سعودی عرب کے معاشی مسائل سے ثابت ہوگیا ہے کہ تیل کی آمدنی پر اس ملک کے شدید انحصارکی وجہ سے ہی تیل سے متعلق اس کی پالیسیوں نے اسے کافی نقصان پہنچایا ہے - موڈیزریٹینگ ایجنسی نے ابھی حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ اس نے تیل کی آمدنی پرسعودی عرب کےشدید انحصار کے باعث سعودی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کردیا ہے- موڈیز نے سعودی عرب کی کریڈٹ ریٹنگ می کمی کا سبب ، تیل کی قیمتوں میں بھاری گراؤٹ قرار دیا ہے- دوسرا موضوع یہ ہے کہ یمن ، شام ، اورعراق سمیت مشرق وسطی میں ال سعود کی جنگ پسندانہ پالیسیاں ، سعودی عرب کے معاشی مسائل میں اضافے کا ایک دوسرا عامل ہے-