سعودی عرب کے توسط سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عالمی تنقیدوں میں اضافہ
سعودی عرب ، جو انسانی حقوق پامال کرنے میں سب سے پیش پیش ہے، کے خلاف بدستور تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے- سعودی عرب کہ جسے "آمریت کے قلعہ " کا نام دیا گیا ہے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے-
آل سعود نہ صرف سعودی عرب اور مغربی ایشیا کی سطح پر، بلکہ بالکل ہی انسانی حقوق پر توجہ نہیں دے رہی ہے- سعودی عرب میں خواتین کا سب سے زیادہ حق پامال کیا جاتا ہے – سعودی خواتین کو جہاں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے ، وہیں حال ہی میں انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت مل جانے کے باوجود ابھی اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہوا ہے-
سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ آل سعود حکومت سے وابستہ ہیں اور تمام ذرائع ابلاغ کی مالکیت ، سعودی خاندان کے اختیار میں ہے- سعودی خاندان پر تنقید، جرم شمار ہوتی ہے – سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف تفریق اور امتیازی سلوک آشکارہ طور پر انجام پا رہا ہے- سعودی حکومت ایک پٹھو حکومت ہے اور اسے عوام سے بھی فرمانبرداری کی توقع ہے-
سعودی عرب گذشتہ پانچ برسوں کے دوران دیگر ملکوں میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنےوالے ملک میں تبدیل ہوگیا ہے- سعودی حکومت شام میں دہشت گردوں کی ہمہ جانبہ حمایت کر رہی ہے اور اس کا ہاتھ شام کے بے گناہ عوام اور معصوم بچوں کے خون سے آلودہ ہے-
آل سعود نے مارچ دوہزار پندرہ سے مشرق وسطی کے سب سے غریب ملک یعنی یمن پر حملےشروع کئے جو اب بھی جاری ہیں- ان وحشیانہ حملوں میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں – اس ملک کی اسّی فیصد سے زیادہ بنیادی تنصیبات نابود ہوچکی ہیں اور تقریبا تیس لاکھ افراد دربدری کی زندگی گذار رہے ہیں –یمن کے بعض حصوں پر دہشت گردوں نے قبضہ جمالیا ہے اور یمن میں قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچا ہے-
سعودی حکومت نے عراق میں بھی دہشت گردوں کی حمایت کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے اور اس کے علاوہ عراق کی حکومت کو کمزور کرنے اور اس ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے-
سعودی حکومت کے ان غیر انسانی اور غیر قانونی رویوں کے باوجود جمہوریت اور انسانی حقوق کی مدعی حکومتوں نے نہ صرف آج تک سعودی عرب کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ہے بلکہ اس صورتحال کی حمایت بھی کی ہے- اس حمایت کا ایک مصداق ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے سعودی عرب کا انتخاب ہے جبکہ اس اقدام کو آزاد تجزیہ نگاروں نے "تلخ سیاسی طنز" سے تعبیر کیا ہے- اس طرح کی صورتحال کو ہمیشہ انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیموں اور شہری حقوق کے سرگرم کارکنوں نے ہدف تنقید بنایا ہے-
اسی سلسلے میں " عالمی یوم دوستی " کے موقع پر برطانیہ میں شہری حقوق کے سرگرم کارکنوں نے انسانی حقوق کونسل کی سربراہی کے لئے دوبارہ سعودی عرب کے انتخاب پر برطانوی حکومت سے اس انتخاب کی مخالفت کا مطالبہ کیا ہے-
ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینئر محقق "بلیکس ویل" نے بھی اٹھارہ اگست کو ایک بیان میں امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ارب پندرہ کروڑ ڈالر کے فوجی سازو سامان سعودی عرب کو فروخت کئے جانے کی مخالفت کرے- اس درخواست کی اصلی وجہ بھی یہ ہے کہ ہیومن رائٹس واچ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سعودی عرب ان ہتھیاروں کو یمن کے عوام کے خلاف استعمال کر رہا ہے- اس سے قبل بھی ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یمن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کے بارے میں تحقیق کا مطالبہ کیا تھا-
آل سعود کے توسط سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقیدوں کا سلسلہ صرف ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور شہری حقوق کے سرگرم کارکنوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی آج انیس اگست کو یمنی شہریوں کے خلاف سعودی عرب کی جارحیتیں جاری رہنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سعودی حکومت اور یمن میں ریاض کی سرکردگی میں فوجی اتحاد کی جارحیتوں کے بارے میں بین الاقوامی تحقیقات انجام دینے کا مطالبہ کیا ہے-