ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے سیکورٹی مسائل
ایسی حالت میں کہ حکومت کابل نے ہمیشہ اعلان کیا ہے کہ وہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، حکومت پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہندوستان کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعاون، اسلام آباد کے لئے نقصان کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان، ہندوستان کی جانب سے افغانستان میں مسلح عناصر کا مقابلہ کئے جانے کی غرض سے حکومت کابل کے لئے اسلحہ روانہ کئے جانے کی رپورٹ کے دو روز بعد سامنے آیا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان سے یہ درخواست ایسے وقت کی گئی ہے کہ کابل یونیورسٹی پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے کہا تھا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی، پاکستان میں ہوئی تھی۔ افغان صدر کے اس دعوے کے جواب میں پاکستان کی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک کی سرزمین کو افغانستان کے خلاف کسی بھی طرح کا دہشت گردانہ حملے کے لئے استعمال کئے جانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے نقطہ نظر سے پاکستان کے خلاف افغانستان کے الزامات اور نئی دہلی کے ساتھ کابل کے تعلقات کے نتائج کے بارے میں اسلام آباد میں پائے جانے والے عدم اعتماد سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ افغانستان، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پایا جانے والا اصل مسئلہ، سیکورٹی سے متعلق ہے اور جب تک یہ ممالک، اعتماد کی بحالی اور تعاون کی توسیع سے متعلق موثر اقدامات عمل میں نہیں لائیں گے ان ممالک کے تعلقات میں بدگمانی اور عدم اعتماد کی فضا قائم رہے گی کہ جس کے نتیجے میں ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی رہے گی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی، تینوں ملکوں کا ایک مشترکہ مسئلہ ہے جس کو ختم کرنے کے لئے اب تک کوئی مشترکہ اقدام یا تعاون عمل میں نہیں آیا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ پاکستان، افغانستان کو ایک ایسا ملک سمجھتا ہے کہ جہاں وہ بہت کچھ کر سکتا ہے وہ اس ملک میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ہے اور اسی بنیاد پر ہندوستان بھی، افغانستان میں اپنے شہریوں پر کسی بھی طرح کے ہونے والے حملے کو پاکستان کی سازش کا نتیجہ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان بھی یہ خیال ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان، حکومت افغانستان کے لئے ہتھیار فراہم کر کے ایک طرح سے مشترکہ تعاون کے تحت حکومت پاکستان مخالف گروہوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایسی حالت میں کہ حکومت کابل نے ہمیشہ اعلان کیا ہے کہ وہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں توازن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان خاص طور سے فوجی و سیکورٹی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات، پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی میں پائی جانے والی مایوسی کا نتیجہ ہیں۔ دو سال قبل افغانستان میں محمد اشرف غنی نے جب سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے، ان کا یہ خیال رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کا راستہ پاکستان سے گذرتا ہے اور حامد کرزئی کی صدارت کے دور میں نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعلقات کے فروغ کے باوجود محمد اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کافی کوششیں کی ہیں تاہم عملی طور پر وہ اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں سیکورٹی کے پائے جانے والے مسائل و مشکلات کی بنیاد، پاکستان میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں انھوں نے پاکستان کے خلاف سخت لب و لہجہ بھی اختیار کیا ہے۔ بنابریں افغانستان کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ علاقے اور خاص طور سے ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کی سیکورٹی کی گتھّی، اسلام آباد کی جانب سے اعتماد کی بحالی اور ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعاون کے فروغ کے ذریعے سلجھ سکتی ہے اس لئے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی سے تمام ملکوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر اثر پڑتا ہے اور اس بات کا نہ صرف افغانستان، بلکہ جنوبی ایشیاء کے علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے رکن ملکوں میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔