دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد کا نتیجہ؟
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i255139-دہشت_گردی_کے_خلاف_امریکی_اتحاد_کا_نتیجہ
رہبر انقلاب اسلامی نے بوسنیہ ہرزہ گووینہ کی صدارتی کونسل کے چیئرمین سے گفتگو میں تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مغرب کا فوجی اتحاد، حقیقی طور پر اس لعنت کا خاتمہ کرنے کے درپے نہیں ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۲۶, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۰ Asia/Tehran
  • دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد کا نتیجہ؟

رہبر انقلاب اسلامی نے بوسنیہ ہرزہ گووینہ کی صدارتی کونسل کے چیئرمین سے گفتگو میں تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مغرب کا فوجی اتحاد، حقیقی طور پر اس لعنت کا خاتمہ کرنے کے درپے نہیں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے منگل کی شام تہران میں بوسنیا ہرزہ گووینہ کی صدارتی کونسل کے چیئرمین باقر عزت بگوویچ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ ممکن ہے کہ اس قسم کے اتحاد، بعض اوقات دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرتے نظر آئیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قائم ہونے والا مغرب کا فوجی اتحاد، عراق اور شام میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے درپے نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یورپ  کے بعض طاقتور اور دولتمند ملکوں میں مسلمان جوانوں کی ہونے والی اہانت، داعش جیسے دہشت گرد گروہوں میں ان کی شمولیت کی راہ ہموار ہونے کا باعث بن رہی ہے۔ مغربی ایشیاء کے علاقے میں مختلف قسم کی دہشت گردی کی بنیاد بعض مغربی ملکوں خاص طور سے امریکہ کی پالیسیوں کے نتیجے میں پڑی ہے۔ شواہد و قرائن منجملہ امریکی صدارتی انتخابات کی دیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کی ماضی کی یادوں سے متعلق شائع ہونے والی کتاب سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بعض مغربی ممالک کی پالیسیاں ہی دہشت گردوں کے وجود میں آنے اور ان کے پنپنے کا باعث بنی ہیں۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں نے نہ صرف امریکہ کی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا بلکہ اسے اس بات کا بہانہ بھی فراہم کر دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان اور عراق پر حملہ کرے اور اس کے ان حملوں سے مزید دہشت گردی اور بدامنی پھیلتی چلی گئی۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کے سیاسی و فوجی حکام نے دہشت گردوں کے خلاف حملے کو امریکہ کی قومی سلامتی کی ضمانت سے تعبیر کیا۔ دہشت گردی کے خلاف مہم کے نام پر افغانستان اور عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے شروع ہونے والے حملوں سے نہ صرف یہ کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ دہشت گردی کا دائرہ دنیا کے مختلف دیگر علاقوں  خاص طور سے مشرق وسطی میں بھی پھیلتا چلا گیا۔ اگرچہ بعض عرب علاقے بظاہر دہشت گردی کا گڑھ بنے رہے تاہم حالیہ پندرہ برسوں کے دوران امریکہ سمیت مغربی ممالک کی پالیسیاں ہی دہشت گردی کے فروغ پانے کا باعث بنی ہیں۔ عراق کی خطرناک صدام حکومت کا تختہ الٹنے کے بہانے اس ملک پر امریکہ کی لشکر کشی نے اگرچہ صدام حکومت کا خاتمہ کر دیا مگر عراق میں امریکہ کی پالیسی کے نتیجے میں داعش دہشت گرد گروہ وجود میں آ گیا۔ امریکہ نے عراق پر اپنے قبضے کے دوران داعش دہشت گرد گروہ کے موجودہ سرغنہ ابوبکر البغدادی کو جیل سے رہا کر دیا جس سے عراق اور پھر شام میں داعش دہشت گرد گروہ کے وجود میں آنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ داعش کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا نتیجہ، یہ برآمد ہوا کہ یہ گروہ، دنیا کے کسی بھی علاقے میں لوگوں کا قتل عام کرنے لگا جس سے پوری دنیا کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہونے لگا۔ داعش کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد مغرب نے امریکہ کی سرکردگی میں داعش مخالف اتحاد قائم کیا۔ اس اتحاد نے دو ہزار چودہ میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا تاہم داعش مخالف امریکی اتحاد کی کارکردگی کے جائزے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حقیقی مقاصد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے۔ وہ دہشت گردی ، کہ جس کے خلاف امریکہ کی سرکردگی میں مغربی اتحاد قائم ہوا، رفتہ رفتہ یورپی ملکوں میں بھی سرایت کر گئی اور پھر یورپی ملکوں کا امن بھی غارت ہونے لگا اور لوگوں پر وحشت طاری ہو گئی۔ عراق و شام میں دہشت گردی کے خلاف مغرب کی دوہرے معیار کی پالیسیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت قائم ہونے والا فوجی اتحاد، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا نہیں چاہتا۔