پاکستان میں سیاسی بحران جاری
حکومت پاکستان نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مشروط طور پر مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
پاکستان میں سیاسی بحران جاری
حکومت پاکستان نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مشروط طور پر مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
حکومت پاکستان نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے مشروط طور پر مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پاکستان کے وزیر انصاف خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف استعفی نہیں دیں گے اور حکومت اسلام آباد بعض مسائل حل کرنے کے لئے تحریک انصاف پارٹی سے مذاکرات کرسکتی ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ تحریک انصاف کے پارٹی ورکروں کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنا دینا حکومت کی ریڈ لائین ہے اور حکومت کسی کو دھرنے دینے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ کو دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے ہٹ کر مذاکرات سے اپنے مطالبات پیش کرنا چاہیے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ محمد نواو شریف کو اکتیس اکتوبر تک مہلت دی جاتی ہے کہ وہ استعفی دیدیں یا خود کو عدالت کے حوالے کردیں ورنہ دونومبر کو دس لاکھ سے زائد افراد پورے پاکستان سے اسلام میں جمع ہوجائیں گے۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے عمران خان سے مشروط طور پر مذاکرات کی آمادگی وہ بھی نواز شریف کے استعفی کے بغیر مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنے پہلے مواقف سے پسپائی سمجھی جائے گی۔
نواز شریف چھے ماہ قبل جب سے پانامالیکس کی دستاویزارت سامنے آئی ہیں بڑے مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔پاناما لیکس میں نواز شریف اور ان کے اھل خانہ کو مالی بدعنوانیوں،منی لانڈرنگ اور ٹیکس سے بچنے کی کوششوں میں ملوث قراردیا گیا ہے۔
پناما لیکس کی دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی حزب اختلاف کی پارٹیاں کو نواز شریف اور ان کے خاندان پر حملے کرنے اور ان کی پارٹی پر دباؤ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ عمران خان نے گذشتہ چھے مہینوں میں اپنے خطابات میں نواز شریف پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات لگا کر ان کے استعفے اور ان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان نے دوہزار چودہ میں حکومت کے خلاف چار ماہ کے دھرنوں اور مظاہروں کےبعد مسلم لیگ ن پر انتخاباتی بدعنوانوں کے الزامات ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ نواز شریف کے حلاف پنامالیکس کے کیس میں انہیں استعفی دینے پر مجبور کرسکیں گے۔ تحریک انصاف کی طرف سے نواز شریف پر پاکستان کے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر کے بیان کے بعد دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے گذشتہ ہفتے عمران خان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پنامالیکس کی دستاویزات کے بارے میں جواب دیں اور آئندہ دو ہفتوں کے اندر انہیں بدعنوانی کے کیس میں جواب دینے کےلئے تیار رہنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سپریم کورٹ کی جانب سے پناما لیکس دستاویزات میں نواز شریف پر مالی بدعنوانیوں کا الزام لگانے کے معاملے کا نوٹس لینے کےبعد حزب اختلاف اب یہ سمجھ رہی ہےکہ اسے اب وزیر اعظم پر دباؤ ڈالنے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے میں عدالت کی حمایت بھی حاصل ہے۔ نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کرنے میں عوامی مسلم لیگ بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہوگئی ہے۔اسی بنا پر حکومت پاکستان نے گذشتہ چھے مہینوں کے برخلاف جب وہ وزیر اعظم کے استعفی کے بارے میں اور پناما لیکس کے الزامات کا جواب نہیں دے رہی تھی اب جبکہ سپریم کورٹ کے سربراہ نے بھی بیان دے دیا ہے اورحزب اختلاف کو عدالت کی بالواسطہ حمایت حاصل ہوچکی ہے تو نون لیگ کی حکومت عمران خان سے مشروط طور پر مذاکرات کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔