ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی
ہندوستان اور پاکستان سے دونوں ملکوں کے سفارتکاروں کو نکالے جانے سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے - ہندوستان سے پاکستان کے سینئر سفارتکار محمود اختر کو ناپسندیدہ عنصر قرار دیتے ہوئے نکالے جانے کے بعد پاکستان نے بھی ہندوستان کے اہم سفارتکار سوربجیت سنگھ کو اسلام آباد سے نکال دیا ہے-
ہندوستان نے حکومت پاکستان کے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے - دوہزارتیرہ میں پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف کے برسراقتدار آنے اور ہندوستان میں نریندر مودی کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی کیونکہ فریقین نے ایک دوسرے کے ساتھ جو قریبی رابطے برقرار کئے ان سے پتہ چل رہا تھا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی باہمی کشیدگی کو ختم کرنے اور تمام میدانوں میں اپنے تعلقات کو توسیع دینا چاہتے ہیں - لیکن عملی طور پر نہ صرف ایسا نہیں ہوا بلکہ اس وقت سیاسی اور علاقائی حلقے دیکھ رہے ہیں کہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو اپنے ملکوں سے باہر کردیا ہے جو ان کے تعلقات میں سیاسی کشیدگی کے عروج پر پہنچنے کی عکاسی کرتا ہے-
سیاسی ماہرین اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہیں - ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں موجود انتہاپسند گروہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی ختم نہیں ہونے دینا چاہتے اور ہر ممکن طریقے سے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے رہے ہیں- اور دوسرے یہ کہ بحران کشمیر، کہ جو انیس سو سینتالیس سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر کئے ہوئے ہے، بدستور فریقین کے باہمی تعلقات پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی دور کرنے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے- یہاں تک کہ گذشتہ ساڑھے تین مہینے سے کشمیر میں جاری عوامی احتجاج نے، نئی دہلی اور اسلام آباد کے تعلقات پر منفی اثر مرتب کیا ہے- تیسرے یہ کہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر کرنے والا ایک مسئلہ دہشت گردی کا ہے- اگرچہ ہندوستان اس مسئلے کو کشمیر سے مربوط سمجتھا ہے لیکن اسلام آباد کا خیال ہے کہ پاکستان اور ہندوستان ، دونوں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں اور انھیں اس سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہئے-
گذشتہ برسوں میں دہشت گرد گروہوں نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی سے فائدہ اٹھایا ہے اور ہندوستان میں اپنے حملوں میں شدت پیدا کرکے دونوں ملکوں کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہےکیونکہ ہندوستان میں ہر طرح کے دہشت گردانہ حملے کے بعد اس ملک کی حکومت پاکستان پر اس میں ملوث ہونے کا الزام لگاتی ہے - ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر اثرانداز ہونے والا ایک مسئلہ افغانستان ہے- پاکستان جو کسی زمانے میں افغانستان کو اپنی کالونی سمجھتا تھا اس وقت افغانستان میں اپنے ایٹمی حریف ہندوستان کا روز بروز بڑھتا ہوا اثر و نفوذ کا سامنا کررہا ہے- اس بنا پر نئی دہلی حکومت کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان ، افغانستان میں پراکسی وار شروع کرا کے وہاں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو روکنا چاہتی ہے- اس کے جواب میں پاکستان بھی ہندوستان پر صوبہ بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کا الزام لگاتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ نئی دہلی حکومت ان گروہوں کی حمایت کر کے پاکستان میں داخلی جنگ شروع کرانے کے ساتھ ہی اس کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے - بہرحال ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی جاری رہنے سے دونوں ملکوں کے علاقائی تعاون پر بھی منفی اثر ڈالا ہے- ہندوستان کی جانب سے پاکستان میں سارک کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کے بائیکاٹ کا بھی اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے-