پاک ہند تغلقات میں کشیدگی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i256429-پاک_ہند_تغلقات_میں_کشیدگی
ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر ایک ایک سفارتکار اپنے اپنے ملکوں سے نکال دیا ہے۔ ان اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیاں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۰ Asia/Tehran
  • پاک ہند تغلقات میں کشیدگی

ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر ایک ایک سفارتکار اپنے اپنے ملکوں سے نکال دیا ہے۔ ان اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیاں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر ایک ایک سفارتکار اپنے اپنے ملکوں سے نکال دیا ہے۔ ان اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیاں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان نے ایک پاکستانی سفارتکار کو ناپسندیدہ عنصر قراردیتے ہوئے اسے ملک سے نکل جانے کو کہا تھا، اسکے جواب میں پاکستان نے بھی ایک ہندوستانی سفارتکار کو نکال دیا۔ہندوستان سے نکالنے جانے والے پاکستانی سفارتکار محمد اختر نے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ ہندوستان سے روانہ ہوتے انہیں مختصر مدت کے لئے ہندوستانی پولیس کی حراست میں رہنا پڑا اور انہیں جسمانی ایذاوں کی دھمکیاں دے کے مجبورا ایک ڈرافٹ پڑھوا یا گیا تھا۔محمود اختر کے بقول ان کو جومتن پڑھنے پر مجبور کیا گیا تھا اس میں آیا تھا کہ نئی دہلی میں پاکستان کے چار سفارتکاروں کا تعلق پاکستانی انٹیلجنس سے ہے۔

میڈیا کی بعض رپورٹوں کے مطابق ہندوستان کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان کے چار سفارتکاروں کے ساتھ غیر سفارتی سلوک کی بنا پر حکومت اسلام آباد نے ہندوستان سے ا پنے تمام سیاسی نمائندے نکال لئے ہیں۔

پاکستان میں میڈیا کی بعض رپورٹوں میں یہ دعوے کئے گئے ہیں کہ اسلام آباد میں ہندوستانی سفارتخانے میں آٹھ افراد ہندوستانی جاسوس تنظیم کے رکن ہیں۔ ان ذرائع ابلاغ نے واضح طور پر ہندوستانی سفارتکاروں کے نام درج کئے ہیں اور ان کی تصویریں بھی شایع کی ہیں۔ اسلام آباد میں ہندوستان کے سفارتخانے نے ان الزامات کے جواب میں خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے سرکاری ذرائع منجملہ وزارت خارجہ نے پاکستان کے بعض خبری ذرایع کے ان دعووں کے بارے میں کہ کچھ ہندوستانی سفارتکار انٹلجنس سروس سے جڑے ہیں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے سفارتکاروں پر ایسے عالم میں جاسوسی کا الزام لگارہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور نئی دہلی اور اسلام آباد ایک دوسرے پر کشمیر کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا الزام لگارہے ہیں۔ اگر ہندوستان و پاکستان کے درمیان لفظی جنگ جاری رہتی ہے تو یہ خطرہ پایاجاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سفارتخانے عارضی طور پر بند ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مختلف مسائل کی بناپر مسابقت، ایٹمی اور میزائلی دوڑ، دہشتگردی کا مقابلہ، اور مسئلہ افغانستان ایسے امور ہیں کہ اگر دونون ملکوں کے سفارتخانے بند ہوجاتے ہیں تو تعلقات بھی نئے نئے مسائل سے دوچار ہوجائیں گے۔ نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہندوستان اور پاکستان کے سفارتخانوں کے بند ہونے سے دونوں ملکوں کے باشندوں کو بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں اور اس کے علاوہ امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے دونوں ملکوں کی کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔

گذشتہ برس ہندوستان اور پاکستان کے سفارتخآنوں نے امن مذاکرات کے احیاء میں اہم رول ادا کیا تھا اور آج اگر ایسی صورتحال پیش آتی ہے اور سفارتخانے بند ہوجاتے ہیں تو بیک ڈور ڈپلومیسی اور دو طرقہ گفتگو سے اختلات کم کئے جاسکتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے یہ جاسوس لگانا کہ پاکستان کے بعض سفارتکار اس کی جاسوس تنظیم سے وابستہ ہیں تو یہ الزام علاقائی ملکوں بالخصوص افغانستان کےساتھ پاکستان کے تعلقات میں خاصی کشیدگی آسکتی ہے۔