بحران یمن کے حل کی کوششیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i256519-بحران_یمن_کے_حل_کی_کوششیں
یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمنی گروہوں کی طرف سے بحران یمن سے متعلق اپنے منصوبے کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ایک بار پھر صنعا کا دورہ کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۲:۴۷ Asia/Tehran
  • بحران یمن کے حل کی کوششیں

یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد الشیخ احمد نے یمنی گروہوں کی طرف سے بحران یمن سے متعلق اپنے منصوبے کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ایک بار پھر صنعا کا دورہ کیا ہے۔

بحران یمن کو شروع ہوئے تقریبا" بیس مہینے ہورہے ہیں۔ یہ بحران 26 مارچ سنہ 2015 کو یمن پر سعودی اتحاد کے حملے سے شروع ہوا تھا۔ بحران یمن کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ ایک اصلی کھلاڑی اور مؤثر ذریعہ تھا لیکن اس بحران کو ختم کرنے یا کم سے کم اس میں کمی پیدا کرنے میں یہ ادارہ ناکام رہا ہے۔ اسماعیل ولد الشیخ نے بحران یمن کے سیاسی حل کے لئے بہت کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ اور کویت میں یمنی گروہوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی اور کویت مذاکرات 100 دن سے زیادہ جاری رہے۔ اگست 2016 میں کویت مذاکرات کا اختتام بحران یمن کے بارے میں ولدالشیخ کی کوششوں کی شکست کے مترادف تھا لیکن انہوں نے یمنی گروہوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی ایک بار پھر کوشش کی۔  اسماعیل ولدالشیخ نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو بار صنعا جاکر اور ایک بار ریاض کا دورہ کرکے یمنی گروہوں سے بات چیت کی۔  یمنی گروہوں سے ان کی بات چیت کا موضوع  نئے منصوبے کے بارے میں یمنی گروہوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اس منصوبے کی ایک شق یہ ہے کہ صدارتی عہدے کے لئے ایک متفقہ نمائندہ منتخب کرکے صدر کے تمام اختیارات اس کو دے دئیے جائیں۔ اس نئے نمائندے کی ذمہ داری یمن میں قومی اتحاد حکومت کی تشکیل اور صدارتی انتخابات کے انعقاد کی زمین ہموار کرنا ہوگی۔

یمنی گروہ ولدالشیخ کے منصوبے کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی اس منصوبے کے مخالف ہیں کیونکہ ان کا دعویˈ ہے کہ یہ منصوبہ یمن میں انصاراللہ کو قانونی جواز پیش کر دے گا۔ یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے بھی پہلے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ منصوبہ یمن کے اقتدار میں منصور ہادی کی بقا کے معنی میں ہے اگرچہ ان کی موجودگی اقتدار کی سربراہی کے معنی میں نہیں ہے۔ ادھر اس منصوبے کے ایک حصے میں بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کرنے کی بات کہی گئی ہے جس کی انصاراللہ مخالف ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ انصاراللہ اسی صورت میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے انخلا کرے گی کہ یمن کی مستعفی حکومت بھی اپنے زیر کنٹرول بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کرے۔

تحریک انصاراللہ ولد الشیخ کے منصوبے کے بعض حصوں کی مخالف ہے لیکن پھر بھی وہ اس منصوبے کو مذاکرات کے قابل قرار دیتی ہے جبکہ بعض خبری ذرائع نے کہا ہے کہ اکتوبر کے اواخر میں ولد الشیخ کے ریاض کے دورے کے دوران منصور ہادی نے ان سے بات بھی نہیں کی تھی۔ بنا بریں ولد الشیخ صنعا میں تحریک انصاراللہ اور عوامی کانگریس سے بات چیت کرنے کے بعد منصور ہادی سے بات چیت کرنے کے لئے ایک بار پھر ریاض جائیں گے۔

اس بات کے پیش نظر  کہ منصور ہادی کی قیادت والی یمن کی مستعفی حکومت کے بارے میں انصاراللہ اور عوامی کانگریس کے درمیان گہرا اختلاف پایا جاتا ہے ایسا نہیں لگتا کہ ولد الشیخ کی نئی کوششیں کم سے کم 2016  کے آخر تک بحران یمن کے خاتمے یا اس میں کمی لانے کے لئے کوئی راہ حل نکلنے کا سبب بنیں گی۔