سعودی شہریوں کے خلاف آل سعود کے ظالمانہ اقدامات
سعودی عرب کے شہریوں کے خلاف آل سعود کی جارحیت اور ظالمانہ اقدامات سعودی عوام کے احتجاجات کا باعث بنے ہیں اور اس دوران سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایک اورسرگرم کارکن نے اپنے جیل میں قید رکھے جانے کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
نیویارک میں واقع انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق " خالد العمیر " نے اپنی رہائی کی مقررہ تاریخ کو ایک روز گزرجانے اور بدستور جیل میں قید رہنے کے بعد بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ "خالد العمیر" کو صیہونی حکومت کی جارحیت کے خلاف مظاہروں سے تعلق رکھنے کے الزام میں ریاض میں گرفتار کیاگیا تھا اور آٹھ سال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی اخبار ریاض کی ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے آیت اللہ شہید شیخ نمر باقر النمر کی حمایت کے سبب آل سعود کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے کئی دیگر سعودی شہریوں کو طویل مدت قید کی سزا سنائی ہے۔ سعودی عرب نے رواں سال کے جنوری کے مہینے میں آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر سمیت سینتالیس افراد کو آل سعود حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں کے الزام میں پھانسی دے دی تھی۔ آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی شہادت، آل سعود کے خلاف اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر احتجاجات کی لہر اٹھنے کا باعث بنی۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی عدلیہ عدل و انصاف کے بجائے اور شرعی اصولوں کو مدنظر رکھے بغیر سعودی فعال اور سرگرم افراد کے خلاف حد سے زیادہ ظالمانہ حکم جاری کر رہی ہے اور اس دائرے میں پھانسی اور طویل مدت قید کی سزا کا حکم جاری کردینا سعودی عدلیہ کے ججوں کے لئے آسان ترین کام ہے۔
سعودی حکام پھانسی اور طویل مدت قید کی سزاؤں سمیت سخت احکامات کو مخالفین کو خاموش کرنے کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور رعب و وحشت کے ذریعہ گھٹن کا ماحول پیدا کرنے کے درپے ہیں تاکہ کوئی آل سعود حکومت کے خلاف کھل کر کچھ کہنے کی جرات نہ کرسکے۔
سعودی حکومت، جو سرکوبی اور ظالمانہ روش میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے، اس حکومت کے اقدامات نے عملا̋ سعودی عرب کو بین الاقوامی میدان میں شہری حقوق کی پامالی کے ایک مرکز میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب کے سیاسی مخالفین نے کہا ہے کہ آل سعود کے اقدامات آل سعود حکومت کی خوفناک جیلوں میں 30 ہزار سے زیادہ سیاسی کارکنوں کی قید اور سعودی شہریوں کے قید خانے میں تبدیل ہونے کا سبب بنے ہیں اور یہ امر سعودی عوام کے خلاف آل سعود کی آمرانہ حکومت کی ظالمانہ پالیسی کی غمازی کرتا ہے۔ سعودی عرب میں جاری قرون وسطی کا سیاسی نظام اور شدید سرکوبی، سیاسی کارکنوں کو دی جانے والی وسیع پھانسی کی سزائیں اور سعودی عرب میں کم سے کم آزادی کا فقدان بھی سعودی عوام اور رائے عامہ کے احتجاج کا سبب بنا ہے۔
ان حالات میں آل سعود اپنے شہریوں کے خلاف سرکوبی میں شدت پیدا کرکے اپنی استبدادی حکومت کی بقا کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ آل سعود حکومت کی شناخت بحرین اور یمن سمیت علاقے کے مختلف ممالک میں اپنی مداخلت میں شدت پیدا کرکے اور عراق، شام اور لبنان میں مغرب کی فتنہ انگیزی کی پالیسیوں کا ساتھ دے کر سعودی عوام اور رائے عامہ کے درمیان ایک ظالم، سازشی اور جمہوریت مخالف حکومت کے طور پر ہوتی ہے۔
اس رویہ کے باوجود سعودی عرب کو کچھ دن پہلے امریکا اور برطانیہ جیسے اپنے حامیوں کی مدد سے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت مل گئی جبکہ سعودی عرب اس کونسل میں اپنی رکنیت کے پہلے والے دور میں ایک عرصہ تک مذکورہ کونسل کے غیرجانب دار ماہرین کے کمیشن کا سربراہ بھی رہا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کی کمزور روش اور طریقوں کا انسانی اور بین الاقوامی حقوق کی وسیع تر پامالی میں سعودی حکام کی گستاخی کے علاوہ کچھ اور نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے نیز سعودی عرب میں سرکوبی کے اقدامات میں شدت آل سعود کے ساتھ عالمی حمایت کا نتیجہ ہے۔