افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i259024-افغانستان_میں_داعش_کی_سرگرمیوں_میں_اضافہ
افغانستان کے صوبہ زابل کے گورنر "بسم اللہ افغان مل " نے اس صوبے میں دہشت گرد گروہ داعش کے کئی اڈے تعمیر ہونے کی خبر دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۳:۴۷ Asia/Tehran
  • افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ

افغانستان کے صوبہ زابل کے گورنر "بسم اللہ افغان مل " نے اس صوبے میں دہشت گرد گروہ داعش کے کئی اڈے تعمیر ہونے کی خبر دی ہے۔

بسم اللہ افغان مل نے کہا کہ طالبان نے اپنے زیرکنٹرول بعض علاقے داعش کے حوالے کر دیئے ہیں اور کچھ حصوں میں سفید جھنڈوں کی جگہ داعش کے سیاہ جھنڈے گاڑ دیئے گئے ہیں - صوبہ زابل کی صوبائی کونسل کے سربراہ عطا جان حق بیان نے بھی کہا ہے کہ داعش گروہ زابل کے چار اضلاع میں سرگرم ہے - کہا جا رہا ہے کہ داعش کے تقریبا دوسو خاندان بھی زابل میں موجود ہیں کہ جن میں سے اکثر افغانستان کے دای چوپان اور نوبہار میں تعینات ہیں- داعش گروہ کہ جس نے گذشتہ مہینوں سے افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ ننگرہار سمیت دیگر مشرقی صوبوں تک بڑھا دیا ہے- افغانستان میں داعش کی تعیناتی سے متعلق گذشتہ ایک سال سے منظرعام پرآنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مشرقی افغانستان کو داعش کے مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں- افغانستان میں داعش کی موجودگی اس ملک کے عوام اور حکومت کے لئے سیکورٹی لحاظ سے باعث تشویش ہونے کے ساتھ ہی سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی فکر و تشویش کا باعث بنی ہے - افغانستان میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے کمانڈروں کی موجودگی کے بارے میں اس ملک کے ڈپٹی اسپیکر محمد ظاہر قدیرکے بیانات اور گذشتہ برس کابل میں بعض ملکوں کے سفارت خانوں کے ساتھ  ان کے تعلقات پر افغانستان میں بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا تھا جس نے ثابت کردیا کہ اس ملک میں داعش کا خطرہ بہت زیادہ ہے- خاص طور پر یہ کہ یہ امکان بھی پایا جاتا ہے کہ افغانستان میں بعض ملکوں کے سفارت خانے اپنے یکطرفہ مفادات کے تناظر میں داعش کی حمایت کریں گے- ان بیانات کے سامنے آنے کے بعد افغانستان کے بعض سیاسی و صحافتی حلقوں نے اعلان کیا کہ بعض ممالک کابل میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے داعش کے ساتھ رابطہ قائم کرکے دہشت گردی کے ہتھکنڈے سے اپنے اہداف کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں - دہشت گرد گروہ داعش افغانستان کے حالات خاص طور سے اس ملک میں جاری بدامنی کوعلاقے میں اپنے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے افغانستان میں خود کو مضبوط کرنے کا مناسب موقع سمجھتا ہے- افغانستان میں بیرونی ملکوں اور طالبان کی موجودگی سے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بدامنی اور اس ملک میں امریکہ کی تخریبی پالیسیاں داعش کی جانب سے علاقے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے اڈے کے طور پر افغانستان کو منتخب کرنے کی اصلی وجہ ہے- افغانستان میں داعش کی موجودگی میں اضافہ اس بات کا باعث بنا ہے کہ اس ملک کی حکومت ، حکومت مخالف اصلی مسلح گروہ کے عنوان سے طالبان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ہی انسداد دہشت گردی کے لئے اپنی کچھ طاقت داعش کے خلاف جنگ پر خرچ کرے-  طالبان کے سابق سرغنہ ملا عمر اور ملا اخترمنصور کی موت کے بعد افغانستان میں بعض طالبان کے داعش میں شامل ہونے پرمبنی خبروں کے منظرعام پر آنے کے بعد اس ملک کے سیکورٹی حالات پر داعش کے اثراندازہونے کا امکان بڑھ گیا ہے- ایسی حالت میں جب داعش نے عراق و شام میں اپنی ناکامی کے بعد  اپنی موجودگی افغانستان میں بڑھانا شروع کردی ہے، اس گروہ کو کنٹرول یا ختم کرنے کے لئے دہشت گردی کے سلسلے میں امریکہ و یورپ کی دہری پالیسیوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے کہ جو علاقے میں انتہاپسندی کے بڑھنے کا باعث ہوئی ہیں- اس کے بعد بھی علاقائی ماحول اور حالات کے پیش نظر حکومتوں کواس بات کی جانب متوجہ رہنا چاہئے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا راستہ ، علاقائی تحفظات اور انتہاپسندی کے خلاف جد و جہد کی قومی پالیسی کے تناظرمیں مشترکہ تعاون ہی ہے-