امریکی قول و فعل میں تضاد
امریکی کانگریس نے اسرائیل کے میزائلی پروگرام کے لئے چھ سو ملین ڈالر کی امداد کی منظوری دیدی ہے
امریکی کانگریس نے اسرائیل کے میزائلی پروگرام کے لئے چھ سو ملین ڈالر کی امداد کی منظوری دیدی ہے
امریکی سینیٹ میں اس کے حق میں بانوے اور مخالفت میں سات ووٹ پڑے جب کہ کانگریس نے گذشتہ ہفتے اتفاق رائے سے اس منصوبے کی منظوری دی تھی ، اس بل کے مطابق "امریکہ اسرائیل میزائل پروگرام" :کے لئے دو سو اڑسٹھ ملین سات لاکھ ڈالر، اینٹی میزائل آہنی گنبد کے لئے باسٹھ ملین ڈالر ، ایک سوپچاس ملین ڈالر نزدیک مار میزائل سسٹم کے لئے اور ایک سو بیس ملین ڈالر دورمار میزائل سسٹم کے لئے امریکہ کی طرف سے اسرائیل حکومت کو دیئے جائیں گےاسکے علاوہ دس ملین ڈالر غزہ پٹی کی زیر زمین سرنگوں کے ذریعے ہونے والے فلسطینی حملوں کی روک تھام کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔
امریکی صدر کے دوسرے دور صدارت میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں میڈیا میں گشت کرتی رہی ہیں، بعض اختلافات کے باوجود تجزیہ نگار اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان گہرے اختلافات ہوسکتے ہیں ، میڈیا میں جن امریکہ اسرائیل اختلافات کو سامنے لایا جاتا تھا وہ دوملکوں کے درمیان اختلافات نہیں بلکہ امریکی حکام اور باراک اوباما کی بعض تنقیدیں تھیں جو انہوں نے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو پر کی ہیں تاہم امریکی حکام کی یہ تنقیدیں اور امریکی کانگریس اور سینیٹ کے حالیہ فیصلوں سے با آسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی حکام کے قول و فعل میں مکمل تضاد ہے مثال کے طور پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نومبر کے آخری ایام میں کہا تھا کہ صیہونی کابینہ کو صیہونی کالونیوں کی تعمیر یا دو مستقل حکومتوں کی تشکیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
جان کیری کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے مخالف ہیں اور انہوں نے صیہونی حکومت کے اس اقدام پر تنقید کی ہے تاہم دوسری طرف جان کیری نے ایسی حالت میں یہ بیان دیا ہے کہ اس بیان سے صرف چند ماہ پہلے یعنی ستمبر میں اوباما حکومت نے اسرائیل کے دفاع کے لئے ایک بہت بڑے دفاعی پیکیج پر دستخط کئے تھے۔ اس پیکیج کے مطابق امریکہ دس سال تک سالانہ تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر اسرائیل کو امداد دے گا ۔
امریکہ اس سے پہلے تین ارب ڈالر امداد دیتا تھا لیکن ستمبر میں منظور ہونے والے اس پیکیج کے بعد امریکہ صیہونی حکومت کو مزید چھ سو ملین ڈالر امداد دے گا۔
ایک اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ امریکہ ایسے عالم میں صیہونی حکومت کی امداد میں اضافہ کررہا ہے کہ عالمی سطح پر صیہونی حکومت کے خلاف اعتراضات اور تنقیدوں میں اضافہ ہوا ہے ، مثال کے طور پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے نائب اسٹیفن اوبرائن نے تیئیس نومبر کو منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غاصب صیہونی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ غرب اردن میں فلسطینی زمینوں پر قبضے اور ان کی تباہی میں سنہ دوہزار پندرہ کی نسبت اس سال دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے غاصب اسرائیل کی سیاسی ، مالی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں مدد اور حمایت اسرائیل کے مزید جری ہونے کا باعث بنی ہے اور وہ فلسطینیوں کے خلاف اپنے مظالم روز بروز اضافہ کررہا ہے۔