سعودی حملوں میں بے شمار یمنی بچے شہید
امریکی اخبار نیشنل انٹرسٹ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر جنگ میں سمندری محاصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس قدر وحشیانہ بمباری کی ہےکہ یمن کی بنیادی تنصیبات پوری طرح نابود ہوکر رہ گئی ہیں۔
امریکی اخبار نیشنل انٹرسٹ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے یمن پر جنگ میں سمندری محاصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس قدر وحشیانہ بمباری کی ہےکہ یمن کی بنیادی تنصیبات پوری طرح نابود ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ دراصل اب یمن میں کوئی جگہ سعودی بمباری سے نہیں بچی ہے۔پل، سڑکیں، اسکول، مدارس، اسپتال اور پانی کے کنوے، باغات اور کھیت کھلیان سب کو سعودی عرب نے نشانہ بنایا ہے۔یمن کی بنیادی تنصیبات کو سعودی عرب کی بمباری میں اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ اس کو دوبارہ تعمیر کرنے میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ نیویارک ٹائمز نے بھی کچھ دنوں قبل ہیومن رائٹس واچ کے حوالے سے لکھا تھا کہ سعودی عرب نے گذشتہ ماہ یمن کے ایک بازار پر حملہ کیا تھا اور ان حملوں میں امریکہ کے فراہم کردہ بم استعمال کئے تھے اس حملے میں ستانوے عام شہری جان بحق ہوئے ہیں جن میں پچیس بچے بھی شامل ہیں۔
رائے عامہ کے دباؤ میں اضافہ ہونے کے بعد امریکی حکام نے منگل کو دعوی کیا تھا کہ امریکہ یمن پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت کی حمایت میں کمی لارہا ہے اور ریاض کو ہتھیاروں کی فروخت بند کردے گا۔ امریکی حکومت نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی بمباری میں عام شہریوں کے مارے جانے پر اسے تشویش ہے۔امریکہ نے یہ دعوی بھی کیا ہےکہ سعودی حملوں میں عام شہریوں کے مارے جانے پر اسکی تشویش کی بنا پر اس نے یہ فیصلہ کیا ہے، اسی تناظر میں واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب کی فضائیہ کو ٹریننگ دینے پر بھی نظر ثانی کرے گا۔ سعودی عرب کو فوجی حمایت میں کمی لانے کے امریکی دعوے ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ ریاض کی جانب سے واشنگٹن کی خدمت گذاری کی وجہ سے علاقے میں سعودی عرب کی تشدد آمیز پالیسیوں کو امریکہ کی حمایت حاصل رہی ہے۔اسی تناظر میں سعودی عرب نے علاقے کے بعض ملکوں کی ہمراہی سے گذشتہ برس چھبیس مارچ سے یمن پر وسیع حملوں کا آغاز کردیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد شہید اور زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ بلاشک سعودی عرب کے حق میں مغربی ملکوں کی حمایت نے آل سعود کے جرائم جاری رہنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس مسئلے پر عالمی رائے عامہ بری طرح برہم ہے اور امریکہ پر تنقیدوں کا سلسلہ امریکی اخباروں میں بھی شروع ہوگیا ہے۔
آل سعود کی مجرمانہ کاروائیوں کی کوریج اور امریکہ کی جانب سے ان جرائم کی حمایت ایسے عالم میں ہے کہ امریکی حکومت یہ چاہتی ہے کہ یہ مسائل امریکی میڈیا میں پیش نہ کئےجائیں۔ لیکن امریکی ذرائع ابلاغ میں یمن کے حالات کے انعکاس سے یہ پتہ چلتا ہےکہ امریکی عوام یمن میں سعودی جرائم پر حساس ہوگئے ہیں کیونکہ ان جرائم کو امریکی حمایت حاصل ہے۔ ان ہی رد عمل کے نتیجے میں امریکی حکام نے وعدہ کیاہے کہ وہ مستقبل میں آل سعود کی حمایت کم کردیں گے۔ امریکی حکام کا یہ دعوی ایسے عالم میں سامنے آرہا ہے کہ بحران یمن کے بارے میں امریکہ اور مغربی حکومتوں کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ ممالک جنگ یمن میں آل سعود کی حمایت کررہے ہیں، یہاں ایک بات قابل توجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے حق میں مغرب بالخصوص امریکہ کی حمایتیں صرف فوجی مدد تک محدود نہیں ہیں بلکہ امریکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی آل سعود کی مدد کررہا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب کے حامیوں بالخصوص امریکہ کے دباو کے تحت اقوام متحدہ مجبور ہوئی کہ آل سعود کی حکومت کا نام بچوں کی قاتل حکومتوں کی فہرست سے نکال دے۔یمن پر سعودی جارحیت میں بے شمار بچے شہید ہوئے ہیں۔ ایک اور بات قابل غور یہ ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں اس قدر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کے منشور کی رو سے انسانیت کے خلاف جرائم، امن کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی مرتکب ہوچکی ہے ۔اس طرح سعودی عرب مغربی ملکوں کی حمایت سے دوبارہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں رکن بننے میں کامیاب ہوگیا ہے تا کہ آل سعود آسودہ خاطر ہو کر اپنے جرائم جاری رکھ سکے۔