امریکہ کی بحران آفرینی اور چین کی جانب سے اس کا مقابلہ
ابھی امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس میں براجمان نہیں ہوئے ہیں لیکن ان کے اور ان کی ٹیم کے چین مخالف نظریات سے چین اور امریکہ کے درمیان اچھے خاصے چیلنج پیدا ہوگئے ہیں
ابھی امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس میں براجمان نہیں ہوئے ہیں لیکن ان کے اور ان کی ٹیم کے چین مخالف نظریات سے چین اور امریکہ کے درمیان اچھے خاصے چیلنج پیدا ہوگئے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات سامنے آرہے ہیں اس کے علاوہ حکومت اوباما نے بھی چین کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرلیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا سبب بنی ہے کہ حکومت چین نے امریکہ کو اپنی تازہ ترین وارننگ میں کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات واحد چین کو تسلیم کرنے اور دو طرفہ معاہدوں پر کاربند رہنے سے مشروط ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے جنوبی چینی سمندر میں مصنوعی جزیروں میں دفاعی میزائلی شیلڈ لگارکھی ہے، اس طرح چین نے امریکہ کے مقابل طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں بحرالکاھل میں امریکی بحری بیڑے کے کمانڈر ایڈمیرل ہری ہریس نے کہا ہے کہ اگر چین جنوبی چینی سمندر میں اپنی مالکیت کے دعوی جاری رکھتا ہے تو امریکہ حکومت چین سے مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔ امریکی ایڈمیرل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن چین کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لئے پرتول رہا ہے اور یہ کشیدگی اور چیلنج اقتصادی مسائل سے شروع ہوکر جنوبی چینی سمندر کے ملکوں سے چین کے اختلافات منجملہ مسئلہ تایوان کو بھی شامل ہوتا ہے۔ امریکہ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کرنے میں تحفطات رکھتا ہے۔ کیونکہ چین نے امریکہ کے مختلف اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے جس میں چین نے امریکہ سے قرضے کے بانڈز خریدے ہیں جن کی لاگت تقریبا ایک ہزار دو سو پچاس اور ایک ہزار دوسو ستر ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس امر کے پیش نظر امریکہ اپنی اقتصادی مشکلات حل کرنے اور سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لئے چین کا محتاج ہے۔اس کے باوجود واشنگٹن یہ کوشش کررہا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون پر تنقید کرتے ہوئے چین سے اپنی مصنوعات کے لئے منڈیوں کو مزید کھولنے کی درخواست کی ہے اسی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں جانے سے پہلے کہا ہے کہ امریکہ کی اقتصادی مشکلات چینی مصنوعات کی درآمدات کی بنا پر ہے اور چین میں امریکی ساز و سامان کی پیداوار اور اسے دوبارہ امریکہ برآمد کئےجانے کو بھی ان مشکلات کا سبب قراردیاہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین سرمایہ کاری اور امریکی مصنوعات درامد کرنے میں کمی لارہا ہے۔ اس کے باوجود یہ دیکھتے ہوئے کہ اقتصادی شعبے میں واشنگٹن اور بیجنگ کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اس بات کا احتمال زیادہ پایا جاتا ہےکہ امریکہ ٹرمپ کے دور میں بھی اقتصادی شعبے میں چین سے دو دو ہاتھ نہیں کرے گا لیکن چونکہ امریکہ جنوبی چینی سمندراور تایوان کے مسئلے پر چین کی حساسیت سے بخوبی واقف ہے اسی سلسلے میں چین پر زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے۔آئندہ عشروں کے لئے امریکہ کی اعلان شدہ اسٹراٹیجی چین کے اطراف جیسے جنوبی چینی سمندر میں فوجیں تعینات رکھنا اور تایوان سے تعاون بالخصوص فوجی تعاون جاری رکھنا ہے۔ در حقیقت باراک اوباما کی حکومت میں امریکی صدر نے چین کے ساتھ مشارکت اور ساتھ ساتھ چین کو اسکی سرحدوں میں محدود کرنے کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔جنوبی کوریا میں تھاڈ میزائل شیلڈ کی تنصیب،جاپان کو طاقتور فوج بنانے اور سرحدوں کےباہر آپریشنون میں شرکت کرنے کی ترغیب دلانا، جنوبی چینی سمندر کے ملکوں کے ساتھ فوجی اور سکیوریٹی تعاون میں فروغ لانا اور چین کے ساتھ ان کے اختلافات کو ہوا دینا چین کو محدود کرنے کے امریکہ کے جملہ فوجی ہتھکنڈے ہیں۔ ہرچند شمالی کوریا کے ایٹمی مسائل بھی امریکہ کی طرف سے چین پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔
چین نے دو موازی پالیسیاں اپنا کر امریکہ کے دباؤ کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔ اختلافات کے حل کے لئے جنوبی چینی سمندر کے ملکوں سے مذاکرات کرنا اور اس علاقے میں فوجی لحاظ سے خود کو مضبوط بنانا نیزتایوان کے تعلق سے امریکہ کے مقابل ٹھوس موقف اپنانا واشنگٹن کا مقابلہ کرنے کے لئے چین کی پالیسیاں ہیں۔چین کے نقطہ نظر سے فلیپائین سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں اور بیجنگ امریکہ کے ایک ساتھی ملک کو جس کے ذریعے وہ چین مخالف پالیسیاں چلنے کی امید رکھتا تھا امریکہ سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ چین کی اس کامیابی پر امریکہ بوکھلا اٹھا ہے اور اسی وجہ سے چین کے خلاف اس نے دباؤ بڑھادئے ہیں۔