ایران کے خلاف سیاسی محرکات پر مبنی قرارداد
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i263284-ایران_کے_خلاف_سیاسی_محرکات_پر_مبنی_قرارداد
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نشست میں سیاسی لابیوں کے زیر اثر ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس قرارداد نے ایک بار پھر ظاہر کردیا ہے کہ انسانی حقوق کے خود ساختہ مدافعین صداقت و نیک نیتی سے عاری ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۰, ۲۰۱۶ ۱۳:۲۴ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف سیاسی محرکات پر مبنی قرارداد

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نشست میں سیاسی لابیوں کے زیر اثر ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ اس قرارداد نے ایک بار پھر ظاہر کردیا ہے کہ انسانی حقوق کے خود ساختہ مدافعین صداقت و نیک نیتی سے عاری ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نشست میں سیاسی لابیوں کے زیر اثر ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں ایک قرارداد  منظور کی گئی ہے۔ اس قرارداد نے ایک بار پھر ظاہر کردیا ہے کہ انسانی حقوق کے خود ساختہ مدافعین صداقت و نیک نیتی سے عاری ہیں۔

        اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر  نے اس قرارداد کی مذمت کی، انہوں نے اس قرارداد کے بانیوں منجملہ کینیڈا کے اھداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واقعا بڑی نفرت انگیز ہے کہ جو ملک خود وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کو پامال کرنے کے کا ذمہ دار ہے اس نے بھی ایران کے خلاف اس مضحکہ خیز قرارداد کی حمایت کی ہے۔ اس قرارداد کا کوئی ھدف اور محرک نہیں ہے مگریہ کہ ایران پر سیاسی دباؤ ڈالا جائے۔ کینیڈا، امریکہ، اور برطانیہ جیسے ممالک جو اس قرارداد کے بانی تھے وہ انسانی حقوق کے مسئلے سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں یہ ممالک دراصل اسی بہانے کے ساتھ  اپنی مداخلت پسندی اور مجرمانہ کاروائیاں اور انسانی حقوق کی پامالی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کا مسئلہ دراصل مغرب کی نگاہ میں اسکی سازشوں کا ایک حربہ بن چکا ہے جس کے سہارے وہ دیگر ملکوں میں اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں اور آزاد و مستقل ملکوں پر دباؤ ڈالتے ہیں جو دنیا پر حاکم تسلط پسند نظام کے مخالف ہیں۔

         اسی بنا پر اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے اس قرارداد پر شدید اعتراض کرتے ہوئے انسانی حقوق کے احترام اور انسانی حقوق کو رائج کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں اسی وقت تک عوام کے منتخب افراد اور حکومتوں کا احترام کرتی ہیں جب تک ان طاقتوں کے مفادات فراہم ہوتے رہتے ہیں۔لیکن وہ قومیں جو دیگر آپشنز چن لیتی ہیں وہ مغرب کی نظر میں تنبیہ کی سزاوار ٹہرتی ہیں۔ فوجی بغاوت، پابندیاں لگانا، جارحیت اور انسانی حقوق کے بہانے مختلف طرح کے تنبیہی اقدامات کرنا مغرب کا شیوہ ہے۔ لیکن جب ان کے اتحادیوں کی بات آتی ہے تو تو وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے سلسلے میں امتیازی رویہ اپنایا لیتی ہیں۔ مغربی طاقتیں بخوبی اپنے اتحادیوں کا دفاع کرتی ہیں اور ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی کہ ان کے اتحادی ملکوں میں انسانی حقوق کی پامالی کس قدر بھیانک اور انسانیت سوز رہی ہے۔

اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس قرارداد کے پس پردہ بھی پانچ جمع ایک گروپ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کے بعد سے شروع ہونے والے ایرانوفوبیا کا سناریو کارفرماہے۔ جن ممالک کو انسانی حقوق کا دعوی ہے ان کے حالات ذرا غور سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہےکہ حقائق کچھ اور ہیں اور تصویر کا دوسرا رخ ہمیں کچھ اور ہی بتارہا ہے۔شمالی امریکہ کے ملکوں منجملہ کینیڈا میں ہی اصلی مقامی باشندوں کے کس قدر وسیع پیمانے پر حقوق پامال کئے گئے ہیں۔کیا امریکہ میں سرخ فاموں اور سیاہ فاموں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے اسے کیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ کچھ اور کہا جاسکتا ہے؟ اس وقت انسانی حقوق کے تعلق سے مغرب کی دوغلی پالیسیوں کے زیر سایہ کروڑوں انسان سماجی عدم مساوات، تعصب، اور شہری حقوق سے محرومی کی زندگی گذار رہے ہیں، دوسری طرف بڑھتی ہوئی نسل پرستی جس سے دہشتگردی جنم لیے کر پروان چڑھ رہی ہے ان ہی مغربی معاشروں میں وجود میں آئی ہے۔ یہ ممالک اس وقت انسانی حقوق کی وسیع پامالی  کی زد میں ہیں لیکن اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے مغربی ملکوں میں بھرپور طرح سے انسانی حقوق پامال کرنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کہتے اور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ واضح ہے کہ اس طرح کی قراردادوں کو منظوری دینے میں انسانی حقوق سے بڑھ کر کچھ اور اھداف بھی مد نظر ہیں۔ اس بات کی کیا وجہ ہےکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے یورپی ملکوں اور امریکہ میں مسلمانوں کے اعتقادات کو نشانہ بنائے جانے پر کوئی ردعمل نہیں دکھاتیں بلکہ اس کی حمایت بھی کرتی ہیں۔لیکن فساد پھیلانے والوں اور جو قتل نفس کے مرتکب ہوئے ہیں اور دہشتگردی میں ملوث ہیں یا منشیات کے اسمگلر ہیں ان کودی جانے والی پھانسی کی سزا کو مغربی ممالک انسانی حقوق کی پامالی قراردیتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ انسانی حقوق کا مسئلہ آفاقی اہمیت کا حامل ہے لیکن آج کی دنیا میں انسانی حقوق کے حقائق منجملہ غزہ و یمن میں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب اور صیہونی حکومت کو دئے ہوئے  ممنوعہ ہتھیاروں سے بچوں اور خواتین کے قتل عام نے انسانی حقوق کے ان  جھوٹے دعویداروں  کی تاریخ کو اس قدر سیاہ کردیا ہے کہ ان میں اب دیگر ملکوں میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اظہار نظر کرنے کی صلاحیت ختم ہوچکی ہے۔