پاکستان میں آئی ایس آئی کی نگرانی
پاکستان میں سکیورٹی مسائل، حکومت اور سیاسی حلقوں کے سامنے ایک بڑی مشکل ہیں۔ ایسے عالم میں پاکستان کے آڈیٹر جنرل رانا اسدامین نے کہا ہے کہ بعض انٹلیجنس سروسز کو آڈیٹ سے مستثنی کرنے سے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں
پاکستان میں سکیورٹی مسائل، حکومت اور سیاسی حلقوں کے سامنے ایک بڑی مشکل ہیں۔ ایسے عالم میں پاکستان کے آڈیٹر جنرل رانا اسدامین نے کہا ہے کہ بعض انٹلیجنس سروسز کو آڈیٹ سے مستثنی کرنے سے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ رانا اسد نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے دوہزار چودہ سے پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اخراجات اوربجٹ کو آڈیٹنگ سے مستثنی قراردے دیا تھا اور اب اس کے اخراجات اوربجٹ کا کوئی حساب کتاب نہیں لیا جاسکتا۔ جبکہ قانون یہ کہتا ہے کہ آڈیٹرجنرل آف پاکستان کو سرکاری اداروں کے لئے مختص کئے گئے بجٹوں کا حساب کتاب رکھنا ہو گا کیونکہ یہ پیسہ عوام کے ٹیکسوں سے فراہم ہوتا ہے۔ لیکن انٹلیجنس سروس کی آڈیٹ کئے بغیر یہ کام ممکن نہیں ہوسکتا۔پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر نگرانی اور اس کے بجٹ کی آڈیٹنگ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اب جبکہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نئے جرنلیوں کی سربراہی میں ہے حکومت اسلام آباد چاہتی ہے کہ آئی ایس آئی کی کارکردگی پر زیادہ نگرانی کرے۔ حال میں جنرل قمر جاوید باجوا کو فوج کا سربراہ بنایا گیا ہے جو ملک کے سیاسی اور اقتصادی امور میں بھرپور دخل رکھتی ہے۔ ادھر جنرل نوید مختار کو آئی ایس آئی کا سربراہ معین کیا گیا ہے۔ ان سے پہلے جنرل رضوان اختر اس ایجنسی کے سربراہ تھے۔ یہ لوگ وزیر اعظم نواز شریف سے نہایت قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کو امید ہے کہ وہ انٹلیجنس ایجنسیوں بالخصوص آئی ایس آئی پر مزید نگرانی رکھ سکیں گے کیونکہ پاکستان کے حالات پر اثر انداز ہونے والے اہم ترین مسائل جیسے مسئلہ کشمیر، اور افغانستان و ہندوستان کے مسئلے کی انچارج آئی ایس آئی ہی ہے۔اس کے علاوہ فوج اقتصادی اور سیاسی امور میں بھی کافی اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ پاکستان کی فوج کا ایک بڑا حصہ فوجی رفاہ فاونڈیشن کے تحت پاکستان کے تمام اقتصادی شعبوں یعنی نانوائی سے لے کر پٹرول پمپ نیز بڑے بڑے کارخانوں کی مالک ہے اور ریٹائرڈ جرنیل اس طرح سے ملک کے اقتصادی امور میں داخل ہوجاتے ہیں۔اسی بنا پر بہت سے لوگ پاکستانی فوج کو ایک طاقتور سیاسی پارٹی اور اقتصادی طاقت بھی سمجھتے ہیں، اس رو سے مسلم لیگ نون کو خدشہ لاحق ہے کہ فوج کو انٹلیجنس ایجنسویں سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ بالخصوص آئی ایس آئی میں حکومت کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کی حکومت انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرفت کی بغاوت کے بعد سرنگوں ہوگئی تھی اور آج بھی یہ افواہیں ہیں کہ فوج کے کچھ جرنیل عمران خان کی تحریک انصاف کی حمایت کررہے جو ہمیشہ سے نواز شریف کے استعفی کی خواہاں رہی ہے۔ان افواہوں سے حکومت کے کچھ حلقوں کو تشویش لاحق ہوچکی ہے کہ کہیں فوجی عناصر سیاسی امور میں مداخلت نہ کردیں،اسی بنا پر پاکستان کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ انٹلیجنس سروسز کے بینک اکاونٹوں کی آڈینٹنگ ہونی چاہیے۔ پاکستان کے سپریم کورٹ نے بھی یہ حکم جاری کردیا ہے کہ جو اکاونٹ حکومت اور ملک کے قومی بجٹ سے متعلق ہیں ان سب کی آڈیٹنگ ہوگی ۔ عدالت عالیہ کے مطابق کوئی بھی اکاونٹ مستثنی نہیں ہے۔اس حکم کی رو سے آیڈیٹر جنرل آف پاکستان کا یہ کہنا کہ آئی آیس آئی کے اکاونٹس اور اخراجات پر نگرانی کرنے کا مسئلہ حکومت اور فوج کے درمیان ایک چیلنج بن کر ابھر سکتا ہے۔ بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے کی نواز حکومت کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان آکر اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے والے ہیں۔ ادھر حکومت نواز شریف اور فوج کی انٹلیجنس ایجنسیوں کے درمیان دہشتگردی کے مقابلے کے بارے میں بھی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ بعض گروہ پاکستان میں یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ فوج کے بعض دھڑے انتہا پسندی اور دہشتگردوں کی حمایت کررہے ہیں اور
ان سے مقابلے کے لئے حکومت اور عدالت کے سامنے رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ سیاسی طور پر وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور حزب اختلاف ان کے استعفی کی خواہاں ہے۔