عراق میں قومی اتحاد پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i264367-عراق_میں_قومی_اتحاد_پر_تاکید
عراق میں قومی اتحاد کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے سنی اور شیعہ اراکین پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں شیعہ اور سنی اراکین پارلیمنٹ نے موصل میں دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں عراقی سیکورٹی فورس اور متحدہ عراق کی حمایت پر تاکید کی۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۷, ۲۰۱۶ ۱۱:۳۶ Asia/Tehran
  • عراق میں قومی اتحاد پر تاکید

عراق میں قومی اتحاد کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے سنی اور شیعہ اراکین پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں شیعہ اور سنی اراکین پارلیمنٹ نے موصل میں دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں عراقی سیکورٹی فورس اور متحدہ عراق کی حمایت پر تاکید کی۔

اجلاس کی صدارت عراق کے اہل تشیع کے سب سے بڑے اتحاد کے سربراہ سید عمار حکیم اور اہل سنّت کے القوی اتحاد کے نمائندے کی حیثیت سے عراقی پارلیمنٹ کے سربراہ سلیم الجبوری نے کی۔ گزشتہ دو سال کے دوران شیعہ اور سنی سیاستدانوں کا یہ پہلا مشترکہ اجلاس ہے۔ اس اجلاس میں چونکہ دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں عراقی سیکورٹی فورسز کی ہمہ گیر حمایت ،  تمام اختلافات کے حل اور عراق کی ہر طرح کی تقسیم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد کےتحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اس لئے اس اجلاس کو عراق کے سیاسی اور اجتماعی میدان میں ایک مثبت تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں نے عراق کی فوج اور عوامی رضاکار فورس سے پے در پے شکستیں کھانے کے بعد قبائلی اختلافات کو ہوا دینا شروع کر دیا ہے۔

ان حالات میں عراق کے خلاف کی جانے والی تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عراقی عوام کے تمام طبقات کا اتحاد اور اتفاق بہت ضروری ہے۔ عراق کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد چونکہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے نشانے پر ہیں اس لئے آئین کے دائرۂ کار میں دہشت گردی کی نابودی اور تمام میدانوں میں ترقی و پیشرفت کے لئے عراقی جماعتوں کا اتحاد و اتفاق بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ تمام عراقی متحدہ محاذ تشکیل دے کر تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں اور تمام میدانوں میں عراق کا قومی اتحاد عراق کی تقسیم کی روک تھام کرے گا۔ آج عراق بہت نازک اور تاریخی مرحلے پر کھڑا ہے اور کسی بھی طرح کا سیاسی انتشار اس ملک کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ عراق میں مختلف طرح کے قبائل، گروہ اور مذاہب موجود ہیں اور ان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کا جذبہ ہی داعشی دہشت گردی کے خطرے سمیت مختلف مشکلات سے نپٹنے کے لئے ضروری اور لازمی شرط ہے۔ عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کی حکومت کی سرنگونی کے بعد بعض علاقائی اور علاقے سے باہر کی طاقتوں نے عراق کی مختلف اقوام اور قبائل کو اپنے حربےکے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔

اس سلسلے میں سیاسی حلقوں نے بھی بارہا خبردار کیا کہ امریکہ عراق کو تقسیم کرنے کے ذریعے مشرق وسطی میں اپنے مفادات کو حاصل کرنے اور اپنی نئی اسٹریٹیجیز کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ امریکی اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ ملک بدستور مشرق وسطی میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنا اور عظیم تر مشرق وسطی یا جدید مشرق وسطی جیسی سازشوں پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ اور ان سازشوں کا ایک حصہ خطے کے اکثر ممالک کو تقسیم کرنے سے عبارت ہے۔ عظیم تر مشرق وسطی کے سلسلے میں جاری کئے جانے والے نقشے کے مطابق عراق کی تقسیم بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔  عراق کی مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ جنگ میں کردوں اور سنیوں کو دی جانے والی اسلحہ جاتی امداد اور اس کے ساتھ ساتھ عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی بات کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ مقصد ہے عراق کی تقسیم۔ ایسی صورتحال میں اپنے مواقف بیان کرنے کے سلسلے میں عراقی حکام کی ہوشیاری بہت ضروری ہے اور سیاسی میدان میں اتحاد سے دہشت گرد گروہ داعش کے ساتھ حساس ، تاریخی اور کٹھن جنگ میں عراق کی سیکورٹی فورسز کو تقویت ملے گی۔

اہل سنّت سمیت عراق کے مختلف طبقات کی جانب سے دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میں عراق کی قومی فوج کی حمایت کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عراق کی ارضی سالمیت کے تحفظ کے سلسلے میں تمام عراقی متحد ہیں۔ عراق کی صورتحال سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ عراق کے مختلف طبقات اور اقوام و قبائل اس آزاد ملک کی تقسیم کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ وہ متحدہ عراق کے دشمنوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔