آستانہ مذاکرات دباؤ کا شکار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i267490-آستانہ_مذاکرات_دباؤ_کا_شکار
قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں تئیس جنوری کو شام کے بارے میں اجلاس ہو گا، اس اجلاس کے بارے میں ایران روس اور ترکی نے پہلے ہی اتفاق کر لیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۱۴, ۲۰۱۷ ۰۹:۲۵ Asia/Tehran
  • آستانہ مذاکرات دباؤ کا شکار

قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں تئیس جنوری کو شام کے بارے میں اجلاس ہو گا، اس اجلاس کے بارے میں ایران روس اور ترکی نے پہلے ہی اتفاق کر لیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے نائب وزرائے خارجہ حسین جابری انصاری، میخائیل بوگدانف اور اونال نے جمعے کے دن ماسکو میں ایک اجلاس میں شام کے مسائل کا جائزہ لیا۔

آستانہ اجلاس میں شام کی حکومت اور اس کے مخالف گروہ، ایران ترکی اور روس کی نگرانی میں مذاکرات کریں گے۔ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شریک ہونگے۔ اگرچہ ایران، روس اور ترکی نے ماسکو بیان کے مطابق سیاسی مذاکرات شروع کرنے اور جنگ بندی جاری رکھنے کی زمین ہموار کر دی ہے لیکن اس نشست پر بدستور دباؤ موجود ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نےجمعرات کو قبرص کے بارے میں جاری مذاکرات کے موقع پر جینوا میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو آستانہ مذاکرات میں ضرور دعوت دی جانی چاہیے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ امکان ہے آئندہ ہفتے آستانہ اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت نامے بھیجے جائیں گے اور واشنگٹن بھی ممکنہ طور پر اس اجلاس میں شرکت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صرف امریکہ آستانہ مذاکرات میں شرکت کرنے والا ملک نہیں ہے اور کوئی بھی امریکہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

واضح رہے اس سے پہلے ترک حکام نے سعودی عرب کو بھی آستانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے پر زور دیا تھا جبکہ شام میں امریکہ اور ترکی کے کردار کی شفافیت پر بھرپور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ان شکوک و شبہات میں دہشتگردوں سے حلب کی آزادی کے بعد اور شامی مسلح گروہوں کے ریاض اجلاس کے بعد کافی اضافہ ہوا ہے۔ بیس دسمبر کو ماسکو مذاکرات میں جو بیان جاری کیا گیا تھا اس میں شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر تاکید کی گئی تھی، یہ مذاکرات ایران ترکی اور روس کے درمیاں ہوئے تھے۔ اس میں عالمی برادری کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور شام کی ارضی سالمیت کے لئے تعاون کرے نیز اقوام متحدہ کی بائیس سو چون قرارداد پر عمل درآمد اور شام کے شہریوں کو ہمہ گیر مدد پہنچانے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرے۔

ان حالات میں چند نکتے قابل بحث ہیں پہلا یہ کہ آستانہ مذاکرات سے شام میں گذشتہ چند مہینوں میں ہونے والے واقعات کو اقوام متحدہ کی مدد سے کسی انجام تک پہنچایا جائے، اگر ایسا کیا جاتا ہے تو شام میں دہشتگردوں کے اقدامات روکنے اور امن قائم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ شامی گروہوں کے ایسے مذاکرات شروع ہوں جن میں بشار اسد کی حکومت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور ترکی اور قطر نیز شام میں سرگرم عمل دہشتگرد گروہوں کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹایا جائے۔

واضح رہے کہ شام کے بحران کے بارے میں تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس بحران کو ختم کرنے کے لئے عالمی حلقوں کو صدر بشار اسد کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا اور مختلف قسم کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنی پڑے گی نیز شام کے تعلق سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہو گا۔

اب جبکہ اقوام متحدہ نے ایران اور روس کی کوششوں کی حمایت کر دی ہے تو آستانہ اجلاس سے توقعات بڑھ گئی ہیں۔ آستانہ نشست دراصل جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مجوزہ اجلاس کا مقدمہ ہے اور شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ یہ اجلاس آٹھ فروری کو ہو گا۔