ایران کے خلاف امریکہ کی سازشیں جاری
امریکہ کے صدر باراک اوباما وہائٹ ہاؤس میں اپنی صدارت کے آخری ایام گذار رہے ہیں، انہوں نے کانگریس کو ایک خط میں ایران، کیوبا، لیبیا، زمبابوے اور ونزوئیلا نیز یوکرین کے تعلق سے قومی ایمرجنسی صورتحال میں توسیع کر دی ہے۔
حالانکہ ایران، پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ انجام پائے ایٹمی معاہدے پر بھرپور طرح سے عمل کر رہا ہے لیکن امریکی حکام خواہ ری پبلیکن ہوں یا ڈیموکریٹس ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے تعلق سے امریکہ کی قومی ایمرجنسی کے قانون میں توسیع بھی اسی تناظر میں انجام پائی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے سینیٹ اورایوان نمائندگان کو خط میں لکھا ہے کہ جن بحرانوں سے مشرق وسطی کے امن عمل کو خطرہ ہے اور جس کی بنا پر جنوری انیس سو پچانوے میں امریکہ نے قومی ایمرجنسی کی صورتحال لاگو کی ہے، وہ بحران ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ باراک اوباما کے خط پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بہانے ایران کے خلاف عائد پابندیاں جاری رہیں گی۔
امریکی حکام نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی ہر بہانے سے ایران کو خطرہ بنا کر ظاہر کیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ایٹمی معاملے میں ایران پر الزامات لگاتے ہوئے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو غیر معمولی اور خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ایٹمی معاملے میں امریکہ کے الزامات ایٹمی معاہدے کے بعد ختم ہو گئے لیکن اس کی ماہیت نہیں بدلی اور صرف طریقے اور سناریو تبدیل ہوئے ہیں۔ اب امریکہ نے ایران کے میزائلی پروگرام پر تشویش کے نام سے ایک سناریو شروع کیا ہے جبکہ ایک دوسرا سناریو یہ ہے کہ ایران دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ پروپگینڈے ایسے عالم میں جاری ہیں کہ جب گذشتہ نصف صدی میں ایران کے خلاف امریکہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ امریکہ ہمیشہ سے ایران کے خلاف خطرہ بنا ہوا ہے۔
امریکہ نے ان تمام برسوں میں خواہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہو یا انقلاب کی کامیابی کے بعد میں، ایرانی قوم کے خلاف ہی قدم اٹھایا ہے اور صرف اس موقع پر ایران کے ایٹمی معاملے پر مذاکرات کے لئے تیار ہوا جب اس نے اپنی پابندیوں اور دھمکی آمیز پالیسیوں کو ناکام ہوتے دیکھا، یاد رہے امریکہ ایٹمی معاہدے کی مکمل طرح سے خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ اقدامات ایران کے لئے خاص پیغامات کے حامل ہیں اس معنی میں کہ امریکہ کی دشمنی مختلف شکلوں اور طریقوں سے جاری ہے یہاں تک کہ مختلف طرح کی سازشوں کی صورت میں بھی جاری ہے اور امریکہ ایرانی قوم کے حقیقی دشمن کی حیثیت سے تمام حربوں کو استعمال کر رہا ہے۔ ایران کی سائنسی اور علمی ترقی و پیشرفت کی امریکہ کی جانب سے مخالفت، اسلامی نظام کے خلاف مختلف طرح کے الزامات لگانا، اور ایران کے ہمسایہ ملکوں میں سمندری، زمینی اور فضائی فوجی اڈے قائم کرنا اس کے علاوہ خلیج فارس میں ایران کے عرب ہمسایہ ملکوں کو بے تحاشا ہتھیار فروخت کرنا نیز ایران کو سیکورٹی کے لحاظ سے چیلنچوں میں گرفتار کرنا امریکہ کی ایسی اسٹریٹیجیاں ہیں جنہیں امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی قومی ایمرجنسی کے قانون میں توسیع لانے سے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ ایران کے خلاف ایک صف میں آ جائیں۔ اسی اسٹراٹیجی کے مطابق خلیج فارس میں امریکہ اور برطانیہ کے زیادہ مشترکہ اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں اور اسی ہدف کے تحت وہ اسرائیل کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ امریکہ کی اسٹریٹیجی ایران کے آس پاس کے علاقوں میں خطروں کا دائرہ تنگ تر کرنا ہے۔