افغانستان میں داعش کے جرائم
افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے ملک کی سکیورٹی فورسز اور فوج کو کہ دہشتگرد گروہ داعش کا قلع قمع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
محمد اشرف غنی نے اپنے پیغام میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ عوام کے اموال کو آگ لگانا اور ان کے درمیان رعب و وحشت پھیلانا ناقابل معافی گناہ ہے اور کسی بھی دین اور آئین میں اس کو جائز قرارنہیں دیا گیا ہے۔
یاد رہے افغانستان میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے درندوں نے جمعے کے دن صوبہ ننگر ہار کے علاقے کوت میں ساٹھ رہائشی مکانات اور بعض پبلک اموال اور تنصیبات کو آگ لگا دی تھی۔ صوبہ ننگر ہار افغانستان کے مشرق میں واقع ہے۔
افغانستان کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو ماضی کی نسبت نہایت شدید طریقے سے ان حملوں کا جواب دینا چاہیے۔ صوبہ ننگرہار کے کوت علاقے میں تکفیری گروہ داعش کے دہشتگردوں کے ہاتھوں ساٹھ گھروں اور اموال عامہ کے تباہ کیا جانے سے افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے تشویشناک دہشتگردانہ اور انسانیت سوز اقدامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صوبہ ننگر ہار داعش کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس صوبے کو دیگر صوبوں کی نسبت داعش سے زیادہ خطرے لاحق ہیں اور اگر داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر تدابیر نہ کی گئیں تو داعش کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
صوبہ ننگر ہار میں داعش کی مجرمانہ کارروائیاں ایسے عالم میں جاری ہیں کہ دو سال پہلے سے افغانستان میں اس تکفیری دہشتگرد گروہ کے وجود میں آنے کی بابت خبردار کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کی قومی اتحاد حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پریہ تنقید کی جارہی ہے کہ اس نے داعش کا موثر مقابلہ کرنے کے لئے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی ہے۔
افغانستان میں داعش کے حملوں میں تیزی آنے کے بعد یہ گمان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیا داعش افغانستان میں طالبان سے بڑا گروہ بن کر ابھر سکتا ہے؟ کیا داعش کے لئے یہ امکان پایا جاتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ طالبان کے رکن افغانستان کے باشندے ہیں اور اب تک طالبان میں کسی غیر ملکی کے شامل ہونے کےبارے میں رپورٹ نہیں ملی ہے لیکن داعش ایک ایسا انتہا پسند گروہ ہے جس میں زیادہ تر غیر ملکی شامل ہیں اور یہ بات شام و عراق میں دیکھی جاسکتی ہےکہ ان ملکوں میں موجود داعش کے زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔
واضح رہے طالبان گروہ افغانستان کے متعدد صوبوں میں موجود ہے لیکن داعش جغرافیائی، جنگجوؤں اور ہتھیاروں کے لحاظ سے طالبان سے رقابت نہیں کرسکتا، دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ طالبان گروہی مسابقت کے تحت داعش کو یہ ہرگز موقع نہیں دے گا کہ وہ پہلے نمبر پر آسکے اور طالبان کو پیچھے دھکیل دے۔ اس بات کے پیش نظر، کہ دہشت گرد گروہ داعش افغانستان کی سیکورٹی صورتحال پر طالبان سے زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں کرسکتا ہے، یہ فرضیہ خود بخود باطل ہوجاتا ہے کہ طالبان گروہ اپنے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کے ساتھ داعش میں شامل ہو سکتا ہے۔