داعش سے مشترکہ مقابلے کے لئے تین ممالک میں اتفاق رائے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i269599-داعش_سے_مشترکہ_مقابلے_کے_لئے_تین_ممالک_میں_اتفاق_رائے
ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے درمیان داعش دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے سہ جانبہ تعاون کے بارے میں اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jan ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۴۵ Asia/Tehran
  • داعش سے مشترکہ مقابلے کے لئے تین ممالک میں اتفاق رائے

ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے درمیان داعش دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے سہ جانبہ تعاون کے بارے میں اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملیشیا کے وزیر اعظم نجیب تون رزاق اور انڈونیشیا اور فلپائن کے صدور جوکو ویدودو اور رودریگو دوترتے کے درمیان یہ اتفاق رائے ہوا ہے۔ اس اتفاق رائے کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے یہ تین ہمسایہ ممالک دہشت گردوں کی گرفتاری اور علاقے میں ان کے افکار کو پھیلنے سے روکنے کے لئے تعاون کریں گے۔ دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کے لئے ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے درمیان ہونے والا اتفاق رائے عراق اور شام میں داعش گروہ کے خلاف محاصرہ تنگ ہونے کے بعد داعش کی جغرافیائی سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلی سے ان ممالک کی تشویش کا غماز ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن سے تقریبا" ایک ہزار دہشت گرد مغربی ایشیا کے علاقے میں داعش گروہ سے جا ملے ہیں اور انہوں نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا مالائی زبان کا شعبہ تشکیل دیا ہے۔

عراق اور شام میں داعش گروہ کے ساتھ مل جانے والے ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن کے بعض شہریوں کی امکانی واپسی ان ممالک میں داعش کے خطرات کی وجہ سے مذکورہ ممالک کے خوف و ہراس میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ سنہ 2016 میں انڈونیشیا، ملیشیا اور فلپائن میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد داعش کے بعض عناصر کے ساتھ علاقائی دہشت گردوں کے تعلق و تعاون کی طرف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے سیکورٹی حکام متوجہ ہوئے۔ فلپائن کے جنوب میں واقع جزیرہ مینداناؤ میں داعشی عناصر کی موجودگی کی رپورٹیں سامنے آنے اور فلپائن میں اس گروہ کے اڈے کی تشکیل کے لئے اس علاقے کے خاص حالات کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیا میں پیدا ہونے والا داعشی خطرہ ان ممالک کی مشترکہ تشویش میں تبدیل ہوگیا۔ خاص طور سے اس لئے بھی کہ جنوبی فلپائن اور جزیرہ مینداناؤ کے ساتھ ملیشیا کی ریاست صباح کی مشترکہ آبی سرحد ہے۔

انڈونیشیا میں بھی دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ کچھ افراد اور ان کے مالی مددگار کی گرفتاری سے انڈونیشیا میں انتہا پسندانہ اقدامات کے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ ابو سیاف گروہ کے ہاتھوں، جو داعش کا حواری گروہ شمار ہوتا ہے، انڈونیشیا، ملیشیا اور فلپائن کے دسیوں ملاحوں کا اغوا ان وجوہات میں سے ایک ہے جس سے ان ممالک کو دہشت گردی سے مشترکہ مقابلے کی ترغیب ملتی ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں انتہا پسندی کے خطرے کے پھیلنے کا علاقے میں وہابی و سلفی نظریات کے اثر و رسوخ  میں توسیع کی، کہ داعش گروہ جن نظریات کی پیداوار ہے، سعودی عرب کی پالیسیوں سے براہ راست تعلق ہے۔

ملیشیا سمیت جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ممالک میں وہابی اور انتہا پسندانہ نظریات کے قریبی افکار، جن کی ترویج کے لئے سعودی حکومت نے لاکھوں ڈالر خرچ کئے ہیں، علاقے میں ریاض کی یہ خطرناک پالیسی علاقے کے عدم استحکام اور دہشت گرد گروہوں کے سرگرم ہونے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ ایسی رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی حکومت ملیشیا اور انڈونیشیا میں خطرناک وہابی نظریات کی ترویج کے لئے انتہا پسندانہ افکار کی ترویج کرنے والے بعض مراکزکی مدد یا دونوں مذکورہ ممالک کے نوجوانوں کو وظیفہ دیئے جانے سمیت مختلف طریقوں سے ایسے لوگوں کی تربیت کرنا چاہتی ہے جو مذہبی مبلغین کے بھیس میں تشدد اور دہشت گردی کو پھیلا تے ہیں۔